اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 166
ب بدر جلد 4 166 سکتا ہے۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا کہ اچھا جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے گا اسے امان دی جائے گی۔ابوسفیان نے کہا یارسول اللہ ! پھر بھی لوگ بیچ رہیں گے۔آپ نے فرمایا اچھا جو ہتھیار پھینک دے گا اسے بھی کچھ نہیں کہا جائے گا۔کہنے لگا یا رسول اللہ ! پھر بھی لوگ رہ جائیں گے۔آپ نے فرمایا اچھا جو اپنے گھر کے دروازے بند کرلے گا اسے بھی پناہ دی جائے گی۔اس نے کہا یار سول اللہ ! گلیوں والے جو ہیں وہ تو بیچارے مارے جائیں گے۔آپ نے فرمایا بہت اچھا لاؤ۔ایک جھنڈا بلال کا تیار کرو۔ابی رُونیحہ ایک صحابی تھے۔آپ نے جب مدینہ میں مہاجرین اور انصار کو آپس میں بھائی بھائی بنایا تھا تو ابی رونیکہ کو بلال کا بھائی بنایا تھا۔شاید اس وقت بلال تھے نہیں یا کوئی اور مصلحت تھی۔بہر حال آپ نے بلال کا جھنڈ بنایا اور آپی رونیچہ کو دیا اور فرمایا کہ یہ بلال کا جھنڈا ہے۔یہ اسے لے کر چوک میں کھڑا ہو جائے اور اعلان کر دے کہ جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو گا اس کو نجات دی جائے گی۔ابو سفیان کہنے لگا بس اب کافی ہو گیا اب مکہ بچ جائے گا۔کہنے لگا اب مجھے اجازت دیجئے کہ میں جاؤں۔آپ نے فرما یا جا۔اب سردار خود ہی ہتھیار پھینک چکا تھا، خبر پہنچنے یانہ پہنچنے کا سوال ہی نہیں تھا۔ابو سفیان گھبرایا ہوا مکہ میں داخل ہوا اور یہ کہتا جاتا تھا کہ لو گو! اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لو۔لوگو! اپنے ہتھیار پھینک دو۔لو گو !خانہ کعبہ میں چلے جاؤ۔بلال کا جھنڈا کھڑا ہوا ہے اس کے نیچے کھڑے ہو جانا۔اتنے میں لوگوں نے دروازے بند کرنے شروع کر دیے۔بعض نے خانہ کعبہ میں گھسنا شروع کر دیا۔لوگوں نے ہتھیار باہر لالا کر پھینکنے شروع کیے۔اتنے میں اسلامی لشکر شہر میں داخل ہوا اور لوگ بلال کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو گئے۔حضرت مصلح موعوددؓ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ میں جو سب سے زیادہ عظیم الشان بات ہے وہ بلال کا جھنڈا ہے۔رسول کریم صلی علی کم بلال کا جھنڈ ا بناتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو شخص بلال کے جھنڈے کے نیچے کھڑ ا ہو جائے گا اس کو پناہ دی جائے گی حالانکہ سردار تو محمد رسول اللہ صلی علیم تھے مگر محمد رسول اللہ صلی علی یم کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا۔آپ کے بعد قربانی کرنے والے ابو بکر تھے مگر ابو بکر کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا۔ان کے بعد مسلمان ہونے والے رئیس عمر تھے مگر عمر کا بھی کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا۔ان کے بعد عثمان مقبول تھے اور آپ کے داماد تھے مگر عثمان کا بھی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا۔ان کے بعد علی تھے جو آپ کے بھائی بھی تھے اور آپ کے داماد بھی تھے مگر علی کا کوئی جھنڈا نہیں کھڑا کیا جاتا۔پھر عبد الرحمن بن عوف وہ شخص تھے جن کے متعلق رسول کریم صلی اللہ یکم فرماتے ہیں کہ آپ وہ شخص ہیں کہ جب تک آپ زندہ ہیں مسلمان قوم میں اختلاف نہیں ہو گا لیکن عبد الرحمن بطحا کوئی جھنڈا نہیں بنایا جاتا۔پھر عباس آپ کے چاتھے اور بعض دفعہ وہ گستاخی بھی کر لیتے تھے۔آنحضرت صلی علیکم کے سامنے بول لیا کرتے تھے تو آپ خفا نہ ہوتے مگر رسول کریم صلی اللی نے ان کا بھی کوئی جھنڈا نہیں بنایا۔پھر سارے رؤساء اور چوٹی کے آدمی موجود تھے۔خالد بن ولید جو ایک سردار کا بیٹا، خود بڑا نامور انسان تھا، موجود تھا۔عمر و بن عاص ایک سردار کا بیٹا تھا۔اسی طرح اور بڑے بڑے سرداروں کے بیٹے تھے مگر ان میں سے کسی ایک کا جھنڈ انہیں بنایا جاتا۔جھنڈ بنایا جاتا ہے