اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 147

اصحاب بدر جلد 4 147 میرا کوئی بچہ جوان ہوتا ہے تو میں اسے کچھ زمین دے دیتا ہوں تاکہ وہ اس میں سے وصیت کر سکے۔جائیداد ہو جائے گی۔کوئی وصیت ہو گی اس کا اب چندہ ادا کرے) اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ میں دوسروں کو ان کے حق سے محروم رکھتا ہوں بلکہ میں یہ کہتا ہوں کہ جب وہ بالغ ہوں گے تو انہیں بھی یہ حصہ مل جائے گا مگر بہر حال جائیداد ایسی ہونی چاہیے جو خاص اہمیت نہ رکھتی ہو اور اگر کوئی شخص ایسا ہبہ کرے جس سے دوسروں میں بغض پیدا ہونے کا امکان ہو تو قرآن کریم کا حکم ہے کہ وہ اسے واپس لے لے اور رشتہ داروں کا بھی فرض ہے کہ اسے اس گناہ سے بچائیں۔368 جائداد کی تقسیم اور ہبہ اور وصیت۔۔۔ایک اصولی رہنمائی پھر ایک موقع پر اسی طرح کے ہبہ کا ایک معاملہ پیش ہوا۔حضرت مفتی صاحب نے پیش کیا تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس پے فرمایا کہ ہمیں اس کے متعلق قرآن کریم کا حکم دیکھنا پڑے گا جو اس نے جائیداد کی تقسیم کے متعلق دیا ہے۔قرآن کریم نے اس قسم کے ہبہ کو بیان نہیں کیا بلکہ ورثہ کو بیان کیا ہے جس میں سب مستحقین کے حقوق کی تعیین کر دی گئی ہے۔بعض دفعہ لوگ اپنی جائیدادوں کی " کرتے ہیں، ان چیزوں کا خیال نہیں رکھتے اور پھر مقدمے چلتے ہیں، رنجشیں پیدا ہوتی ہیں۔اور پھر آپ فرماتے ہیں کہ اب قرآن کریم کے مقرر کردہ حصص کو بدلا نہیں جاسکتا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ ان احکام کے مقرر کرنے میں کیا حکمت ہے۔وراثت کی رو سے کیوں سب لڑکوں کو برابر ملنا چاہیے اور ایک لڑکے کی شکایت پر کیوں رسول اللہ صلی علی کرم نے اس کے باپ کو ارشاد فرمایا کہ یا تو تم اس کو بھی گھوڑالے دو یا پھر دوسرے سے بھی لے لو۔اس میں حکمت یہ ہے کہ جس طرح اولاد پر والدین کی اطاعت فرض ہے اسی طرح والدین کے لئے بھی اولاد سے مساویانہ سلوک اور یکساں محبت کرنا فرض ہے لیکن اگر والدین اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جنبه داری سے کام لیتے ہیں، ایک طرف جھکاؤ ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ اولاد شاید اپنے فرائض سے تو منہ نہ موڑے۔اولاد تو شاید والدین کا حق ادا کرتی رہے گی لیکن ان فرائض کی ادائیگی یعنی والدین کی خدمت کرنے میں کوئی شادمانی اور مسرت محسوس نہیں کرے گی۔اولاد پھر بلکہ اسے چٹی سمجھ کر ادا کرے گی۔ٹھیک ہے اللہ تعالیٰ نے کہا ہے خدمت کرو۔ہم خدمت کر رہے ہیں۔خوشی سے نہیں کر رہے ہوں گے۔بعض لوگ لکھتے ہیں کہ بعض لوگوں کا اس قسم کا رویہ اولاد کے لئے مضر اور محبت کو تباہ کرنے والا ہوتا ہے جو اولاد اور ماں باپ میں ہوتی ہے۔اس لئے اسلام نے اس سے منع کیا ہے لیکن وصیت اور ہبہ جو کہ اپنی اولاد کے لئے نہیں ہو تا بلکہ دین کے لئے ہوتا ہے جائز ہے۔اولاد کے علاوہ، جائز وارث جو ہیں ان کے علاوہ آپ ہبہ اور وصیت کر سکتے ہیں کیونکہ وہ شخص اس سے خود بھی محروم رہتا ہے۔صرف اولاد ہی کو نقصان نہیں پہنچا تا بلکہ اس کی ذات کو بھی پہنچتا ہے چونکہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں خرچ ہوتا ہے۔اس لئے اولاد بھی اس سے ملول خاطر نہیں ہوتی، اس کو غم نہیں ہو تا لیکن اگر ہبہ یا وصیت کسی خاص اولاد