اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 129 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 129

اصحاب بدر جلد 4 129 بیہودہ بات ہے جس کی سزا میں اسلام نے کفارہ مقرر کیا ہے۔حضرت اوس نے کفارہ نہیں ادا کیا، کفارہ دینے سے پہلے اپنی اہلیہ سے تعلق قائم کیا تو رسول اللہ صلی الیم نے انہیں حکم دیا کہ یہ غلط ہے۔پندرہ صاع جو ساٹھ مسکینوں کو کھلائیں۔یعنی کفارہ یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو تم کھانا کھلاؤ۔ظھار کے متعلق قرآن کریم میں بھی حکم ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وو، الَّذِينَ يُظْهِرُونَ مِنْكُمْ مِنْ نِسَابِهِمْ مَا هُنَّ أُمَّهُتِهِمْ إِنْ أَمَّهْتُهُمْ إِلَّا الَّىٰ وَلَدُنَهُمْ وَ إِنَّهُمُ لَيَقُولُونَ مُنَكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا وَإِنَّ اللهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ وَالَّذِينَ يُظْهِرُونَ مِنْ نِسَا بِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَّتَمَاشَا ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاشَاء فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينَا ۖ ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللهِ وَرَسُولِهِ وَتِلْكَ حُدُودُ اللهِ وَلِلْكَفِرِينَ عَذَابٌ اليه (الجاد : 33) تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہو سکتیں۔ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنم دیا اور یقیناوہ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔اور اللہ یقیناً بہت در گزر کرنے والا اور بہت بخشنے والا ہے۔اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں کو ماں کہہ دیتے ہیں پھر جو کہتے ہیں اس سے رجوع کر لیتے ہیں۔یعنی پہلے ماں کہہ دیا۔پھر کہہ دیا اوہو غلطی ہوگئی تو پیشتر اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں، ایک گردن کا آزاد کرنا ہے یعنی اس زمانے میں تو غلام ہوتے تھے ایک غلام کو آزاد کرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ وہ ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔پس جو اس کی استطاعت نہ پاتے ہوں۔(اگر یہ استطاعت نہیں ہے کہ غلام ہے اس کو آزاد کرنا ہے ) تو مسلسل دو مہینے کے روزے رکھنا ہے پیشتر اس کے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو چھوئیں۔پس جو اس کی بھی استطاعت نہ رکھتا ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لئے ہے کہ تمہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے طمانیت نصیب ہو۔یہ اللہ کی حدود ہیں اور کافروں کے لئے بہت ہی درد ناک عذاب مقدر ہے۔اس کا ترجمہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی فرمایا ہے کہ : "جو شخص اپنی عورت کو ماں کہہ بیٹھے تو وہ حقیقت میں اس کی ماں نہیں ہو سکتی۔ان کی مائیں وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہوئے۔سو یہ ان کی بات نامعقول اور سراسر جھوٹ ہے اور خد ا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اور جو لوگ ماں کہہ بیٹھیں اور پھر رجوع کریں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے ایک گردن آزاد کر دیں۔یہی خدائے خبیر کی طرف سے نصیحت ہے اور اگر گردن آزاد نہ کر سکیں تو اپنی عورت کو چھونے سے پہلے دو مہینہ کے روزے رکھیں اور اگر روزے نہ رکھ سکیں تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا دیں۔"332 ان کی بیوی حضرت خُوَيْله بنت مالك بن ثعلبہ سے روایت ہے، کہ میرے شوہر اوس بن صامت نے مجھ سے ظھار کیا تو میں رسول اللہ صلی علیکم کے پاس شکایت لے کر گئی اور رسول اللہ صلی ا لیکن اس کے بارے