اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 128
تاب بدر جلد 4 128 لیے پانی کا گھڑا اپنے ہاتھ میں اٹھا کر لاتے تھے اور اس طرح پانی مہیا کرتے رہے۔نبی اکرم صل ال یکم کی قبر میں اترنے کا اعزاز پانے والے 327 حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت علی، حضرت فضل بن عباس، ان کے بھائی ققم، رسول اللہ صلی علیم کے آزاد کردہ غلام شقران اور حضرت آؤس بن خَوْلِی رسول اللہ صلی للی کم کی قبر میں اترے تھے۔328 یعنی نعش لحد کے اندر رکھنے کے لیے۔حضرت اوس بن خولی سے مروی ہے کہ آپ رسول اللہ صلی الی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا اسے اوس ! جو اللہ تعالیٰ کے لیے عاجزی انکساری اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے درجات بڑھاتا ہے اور جو تکبر کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرتا ہے۔29 وفات 329 پس یہ بہت ضروری سبق ہے جو ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے۔آپؐ کی وفات مدینہ میں حضرت عثمان کے دور خلافت میں ہوئی۔330 40 حضرت اوس بن صامت پھر حضرت اوس بن الصَّامِت بدر کے ایک صحابی تھے جنہوں نے بدر میں حصہ لیا ہے۔حضرت اوس بن صامت حضرت عبادہ بن صامت کے بھائی تھے۔تمام غزوات میں شمولیت حضرت اوس غزوہ بدر اور احد اور دوسرے تمام غزوات میں حضور صلی الم کے ساتھ شریک ہوئے۔رسول اللہ صلی علیم نے حضرت اوس بن صامت اور حضرت مَرْشَد بن ابي مَرْشَدَ الْغَنَوِی کے در میان عقد مواخات کیا۔روایات میں آتا ہے کہ حضرت اوس نے اپنی اہلیہ خُوَيْله بنتِ مالک سے ظھار کیا تھا۔331 ظہار کرنے والے ظهار کہتے ہیں جو عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنی بیوی کو ماں کہہ دیا یا بہن کہہ دیا اس طرح کہنے کے بعد اپنے اوپر حرام کر لیتے تھے یعنی کہ تم میری ماں ہو اس لئے حرام ہو گئی ہو۔اسلام نے اس رسم کو مٹا دیا اور حکم دیا کہ اس کلمہ کے کہنے سے طلاق نہیں ہوتی۔ماں بہن کہہ دیا تو طلاق نہیں ہو جاتی۔ہاں یہ