اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 87 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 87

ب بدر جلد 4 87 بن عاص نے بنو قضاعہ کے علاقے میں پہنچ کر وہاں سے حضور صلی لی ہم کو پیغام بھیجا کہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ ہے اس لیے کمک بھیجی جائے، مزید فوج بھیجیں۔آپ صلی تعلیم نے پیغام ملتے ہی دو سو مہاجرین اور آپ انصار کی جماعت حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی قیادت میں مدد کے لیے روانہ فرما دی اور ہدایت فرمائی کہ عمرو کے ساتھ جاکر ملیں اور اختلاف نہ کریں۔یعنی جو بھی فیصلہ کرنا ہے ایک ہو کے کیا جائے۔جب یہ فوج حضرت عمرو بن عاص کی فوج سے مل گئی تو تمام لشکر کی امارت کا سوال پیدا ہوا۔حضرت ابو عبید ہا اگر چہ اپنے مرتبہ کے لحاظ سے امارت کے مستحق تھے مگر جب حضرت عمرو بن عاص نے اصرار کیا کہ میں ہی ساری فوج کی قیادت کروں گا تو حضرت ابو عبیدہ نے خوش دلی سے ان کی قیادت قبول کر لی کیونکہ آنحضرت صلی علیکم کا حکم بھی تھا کہ اختلاف نہیں کرنا اور ان کی زیر امارت نہایت بہادری سے دشمنوں کے خلاف لڑائی لڑے یہاں تک کہ دشمن کو شکست ہو گئی۔جب کامیابی کے بعد مدینہ واپس آئے تو آپ صلی علی یکم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی اطاعت کی کیفیت سنی تو فرمایا رحمه الله ابا عُبَيْدَہ کہ ابو عبیدہ پر اللہ کی رحمت ہو کہ اس نے یہ اطاعت کا معیار قائم کیا۔12 232 سریہ سیف البحر پھر ہے سریہ سیف البخر۔یہ وہ ساری جنگیں ہیں جن کی فوجوں میں آنحضرت صلی اللہ ہم شامل نہیں ہوتے تھے۔یہ سر یہ ہیں۔یہ سر یہ آٹھ ہجری میں ساحل سمندر کی طرف روانہ ہو ا جہاں بنو جهینه کا ایک قبیلہ آباد تھا۔اس سریہ کو جیش الخبط بھی کہا جاتا ہے۔اس نام کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ خوراک کی کمی کے باعث صحابہ ایسے درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہو گئے جنہیں خَبظ کہا جاتا تھا۔خَبَط کے ایک معنی پتے جھاڑنے کے بھی ہے۔اس سریہ کا ذکر صحیح بخاری میں ہے اور وہ اس طرح بیان ہوا ہے۔حضرت جابر روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی ال یکم نے ہمیں بھیجا۔ہم تین سو سوار تھے۔ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔قریش کے تجارتی قافلے کی نگرانی میں بیٹھ گئے۔یہاں کوئی جنگ کا ارادہ نہیں تھا۔قریش کے قافلے کی نگرانی کرنی تھی۔سمندر کے کنارے ہم آدھا مہینہ ٹھہرے رہے اور ہمیں سخت بھوک لگی۔یہاں تک کہ ہم نے پتے بھی کھائے۔بعض مواقع پر جب سریہ میں جاتے تھے تو ان میں جنگوں کی نیت سے نہیں جاتے تھے بلکہ اور مقصد ہوتے تھے اور بعض دفعہ پھر جنگوں کا سامنا بھی کرنا پڑتا تھا اس لیے دونوں لحاظ سے یہ سر یہ ایسی مہم کہلاتے ہیں جس میں آنحضرت صلی الی یکم شریک نہیں تھے۔بہر حال کہتے ہیں یہاں تک کہ ہم نے پتے بھی کھائے۔اس لیے اس فوج کا نام جیش اسمندر الخبط رکھا گیا۔اس اثنا میں سمندر نے ہمارے لیے ایک جانور جس کو عنبر کہتے ہیں پھینک دیا یعنی سے ایک جانور مر کے باہر آیا یا ویسے ہی باہر آیا اور خشکی میں آکر وہ پانی کے بغیر رہ نہیں سکا تو مر گیا۔بہر حال کہتے ہیں سمندر سے ایک جانور آیا۔وہ مچھلی ہی تھی، بہت بڑی مچھلی۔ہم اس کا گوشت آدھا مہینہ کھاتے رہے اور اس کی چربی بدن پر ملا کرتے تھے یہاں تک کہ ہمارے جسم پھر ویسے کے ویسے تازہ ہو گئے جیسے پہلے تھے۔حضرت ابو عبیدہ نے اس کی پسلیوں میں سے ایک پہلی لی اور اس کو کھڑا کیا اور سب