اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 85
85 اصحاب بدر جلد 4 رسول کریم صلی ا یوم کے چہرہ مبارک سے کڑیاں نکالتے ہوئے دو دانت ٹوٹ گئے اس واقعے کے بارے میں حضرت عائشہ کی روایت ہے کہ حضرت ابو بکر بیان فرماتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن جب رسول اللہ صلی علیم کے چہرے پر پتھر مارا گیا تو وہ اتنے زور سے لگا کہ آپ کے خود کے دو حلقے ٹوٹ کر ، اس کی کڑیاں جو تھیں وہ ٹوٹ کر آپ کے چہرہ مبارک میں پیوست ہو گئیں۔اس پر شخص حضرت ابو بکر کہتے ہیں کہ میں دوڑتا ہوا رسول اللہ صلی میں کمی کی طرف گیا تو میں نے دیکھا کہ ایک اتنی تیزی سے آپ صلی للی کم کی طرف بڑھ رہا تھا گویا کہ اُڑ کر آرہا ہو۔اس پر میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! اس شخص کو خوشی کا موجب بنا۔یعنی یہ جو دوڑا جا رہا ہے یہ آنحضرت صلی علیم کے لیے بھی، ہمارے لیے بھی خوشی کا موجب بنے۔جب ہم رسول اللہ صلی علیکم کے پاس پہنچے تو میں نے دیکھا کہ وہ ابو عبیدہ بن جرائح تھے جو مجھ سے سبقت لے گئے۔انہوں نے مجھ سے کہا : اے ابو بکر ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ مجھے رسول اللہ صلی نیلم کے رخسار مبارک سے ان حلقوں کو نکالنے دیں یعنی وہ جو خود کے اندر جبڑے میں چبھ گئے تھے ان کو نکالنے دیں۔حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ میں نے انہیں ایسا کرنے دیا۔پس حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے خود کے ان دو حلقوں میں سے ایک کو اپنے دانت سے پکڑا اور اتنے زور سے کھینچا۔اتنے مضبوطی سے وہ اندر گڑھ گئے تھے کہ جب کھینچ کر نکالا تو آپ کمر کے بل زمین پر گر گئے اور آپ کا سامنے کا ایک دانت ٹوٹ گیا۔پھر آپ نے دوسرے حلقے کو بھی دانتوں سے پکڑ کر زور سے کھینچ کر باہر نکالا کہ آپ کا سامنے کا دوسرا دانت بھی ٹوٹ گیا۔غزوہ احد کے موقعے پر جب لوگ منتشر ہو گئے تھے تو حضرت ابو عبیدہ بن جراح ان لوگوں میں سے تھے جو رسول اللہ صلی علی نیم کے پاس ثابت قدم موجود رہے۔صلح نامہ حدیبیہ پر بطور گواہ دستخط 229 ذوالقعدہ چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقعے پر جب صلح نامہ لکھا گیا تو اس معاہدے کی دو نقلیں تیار کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پر اپنے دستخط کیے۔مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سے حضرت ابو بکر، حضرت عمرؓ، حضرت عثمان، حضرت عبد الرحمن بن عوف، حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح تھے۔230 سریہ ذوالقصہ رسول اللہ صلی علیم نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کو کئی سرایا، سریہ کی جمع سر ایا مطلب ہے جنگوں میں بھجوایا تھا۔جو expeditions ہوتی ہیں ان میں بھجوایا تھا۔ذوالقصّہ کی طرف سریہ : یہ سریہ ربیع الآخر چھ ہجری میں بھجوایا گیا تھا۔اس کے بارے میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے اپنی تصنیف سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ : ربیع الآخر کے مہینہ میں آنحضرت صلی الی رام نے حضرت محمد بن مسلمہ انصاری کو ذوالقصہ کی طرف روانہ فرمایا