اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 84
تاب بدر جلد 4 مواخات 84 حضرت ابو عبیدہ کی مواخات کے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔بعض کے مطابق رسول اللہ صلی ال نیلم نے حضرت ابو عبیدہ کی مواخات حضرت ابو حذیفہ کے آزاد کردہ غلام حضرت سالم کے ساتھ فرمائی۔بعض کے نزدیک آنحضور صلی علیم نے آپ کی مواخات حضرت محمد بن مسلمہ کے ساتھ قائم فرمائی اور بعض کے نزدیک آپ کی مؤاخات حضرت سعد بن معاذ کے ساتھ قائم فرمائی۔224 تمام غزوات میں شرکت حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے غزوہ بدر، احد اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی ال نیم کے ساتھ شرکت کی۔225 غزوہ بدر کے وقت حضرت ابو عبیدہ بن جراح کی عمر 41 سال تھی۔جذبہ توحید نسبی تعلق پر غالب آیا اور بیٹے نے باپ کو قتل کر دیا 226 غزوہ بدر کے روز حضرت ابو عبیدہ بن جراح مسلمانوں کی طرف سے میدانِ جنگ میں آئے اور آپ کا باپ عبد اللہ کفار کی طرف سے میدان میں آیا۔باپ بیٹا آمنے سامنے ہوئے۔باپ نے جنگ کے دوران بیٹے کو نشانہ بنانا چاہا مگر حضرت ابو عبیدہ پطرح دیتے رہے، ایک طرف نکلتے رہے ، بچتے رہے مگر باپ نے پیچھانہ چھوڑا۔باپ کی کوشش تھی کہ آپ کو کسی طرح مار دے۔آپ کو بھی موقع تھا، آپ بھی یہ کر سکتے تھے لیکن آپ یہی کوشش کرتے رہے کہ باپ سے بچتے رہیں۔نہ اس کو ماریں اور خود بھی بچے ر ہیں۔جب حضرت ابو عبیدہ نے دیکھا کہ باپ پیچھا ہی نہیں چھوڑ رہا تو جذ بہ توحید نسبی تعلق پر غالب آیا۔پھر رشتہ داری کوئی چیز نہیں رہی۔جب آپ نے دیکھا کہ اب تو یہ پکا ارادہ کیے بیٹھا ہے کہ مجھے مارنا ہے اور صرف اس لیے مارنا ہے کہ میں توحید پر ایمان لے آیا ہوں اور لکھا ہے کہ جذبہ توحید نسبی تعلق پر غالب آیا اور جب یہ ہو گیا، جب دیکھا کہ پیچھا نہیں چھوڑ رہا تو پھر عبد اللہ جو اُن کا باپ تھا اپنے ہی بیٹے حضرت ابو عبیدہ بن جراح کے ہاتھوں قتل ہوا۔آخر اُس کو پھر مجبوراً ان کو مارنا پڑا۔227 نبی اکرم صلی ا م کو زخمی کرنے والا بد عا کا شکار ہو گیا غزوہ احد کے دن عبد اللہ بن قمیہ نے آنحضور صلی علیکم کو زور سے پتھر مارا جس سے آپ صلی لیلی کم چہرہ مبارک زخمی ہو گیا اور آپ صلی علی کرم کے دندانِ مبارک شہید ہو گئے۔اس پر اس نے نعرہ مارا کہ یہ لو کہ میں ابن قمیہ ہوں۔رسول اللہ صلی علیم نے اپنے چہرہ مبارک سے خون صاف کرتے ہوئے فرمایا اللہ تجھے رسوا کرے۔راوی کہتے ہیں کہ پھر ایسا ہوا کہ اللہ نے اس پر ایک پہاڑی بکر امسلط کر دیا جس نے اسے مسلسل سینگ مارے یہاں تک کہ اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔228