اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 66
اصحاب بدر جلد 4 66 حضرت ابولبابہ کو مدینہ منورہ میں حضور صلی یکم کی نیابت کا شرف حاصل ہوا ہے۔فتح مکہ کے موقعہ پر ایک جھنڈا ان کے ہاتھ 156 حضرت ابولبابہ فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ صلی علیکم کے ہمرکاب تھے۔انصار کے قبیلہ عمرو بن عوف کا جھنڈا ان کے ہاتھ میں تھا۔حضرت ابو لبابہ نبی کریم صلی للی امام کے ساتھ جنگوں میں شریک رہے۔7 وفات 157 ان کی وفات کے بارے میں بعض کے نزدیک حضرت ابو لبابہ حضرت علی کے زمانہ خلافت میں فوت ہوئے۔بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمان کی شہادت کے بعد وفات پائی۔ایک رائے یہ بھی ہے کہ 158 50 ہجری کے بعد تک زندہ رہے۔8 نبی اکرم کلام کی بارش کے لئے دعا و۔۔۔سعید بن مسیب روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علی یم نے جمعہ کے دن بارش کی دعا کی اور فرمایا اللهُمَّ اسْقِنَا اللهُمَّ اسْقِنَا اللَّهُمَّ اسْقِنَا۔کہ اے اللہ ہم پر بارش برسا اے اللہ ! ہم پر بارش برسا اے اللہ ! ہم پر بارش برسا۔ابولبابہ کھڑے ہوئے اور کہا یارسول اللہ پھل باغوں میں ہے۔راوی کہتے ہیں کہ آسمان میں ہمیں کوئی بادل نظر نہیں آرہا تھا۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا کہ اے اللہ ! ہم پر بارش برسا یہاں تک کہ ابولبابہ ننگے بدن اپنے کھلیان میں پانی کا سوراخ اپنے کپڑے سے بند کرے۔کہتے ہیں کہ دعا کے بعد آسمان سے پانی برسنا شروع ہو گیا۔بادل آئے۔بارش شروع ہو گئی تو رسول اللہ صلی علیم نے نماز پڑھائی۔راوی کہتے ہیں کہ انصار حضرت ابولبابہ کے پاس آکر کہنے لگے کہ اے ابو لبابہ ! اللہ کی قسم یہ بارش اس وقت تک نہیں رکے گی جب تک تم رسول اللہ صلی علی یلم کے فرمان کے مطابق ننگے بدن اپنے کپڑے کے ذریعہ اپنے کھلیان سے پانی کے نکاس کا راستہ نہیں روکو گے۔چنانچہ حضرت ابو لبابہ اپنے کپڑے کے ذریعہ نکاس کا راستہ بند کرنے کھڑے ہو گئے اور اس کے بعد بارش رک گئی۔159 ابولبابہ مکانواسہ نبی اکرم صلی الم کی گود میں حضرت ابولبابہ اپنے نواسے عبد الرحمن بن زید ( جو حضرت عمرؓ کے بھتیجے تھے) کو ایک کھجور کی چھال میں لپیٹ کر رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔آپ صلی الم نے دریافت فرمایا کہ اے ابولبابہ تمہارے پاس کیا ہے ؟ حضرت ابولبابہ نے کہا کہ یارسول اللہ میر انواسہ ہے۔میں نے اس جیسا کمزور نو مولود کبھی نہیں دیکھا۔رسول اللہ صلی اہل علم نے اس نو مولود کو اٹھایا اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعا دی۔اس دعا کی برکت سے جب عبد الرحمن بن زید لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہوتے تو قد میں سب سے لمبے نظر آتے تھے۔حضرت عمر نے ان کی شادی اپنی بیٹی فاطمہ سے جو حضرت ام کلثوم کے بطن سے تھیں اور حضرت ام کلثوم حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی بیٹی تھیں، کروائی تھی۔160