اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 58
58 صحاب بدر جلد 4 ابو عقیل آدھا صاع کھجور مزدوری کے پیسوں میں سے لے کر آئے۔ایک اور شخص ان سے زیادہ لایا تو اس پر منافق کہنے لگے کہ اللہ تو اس شخص کے صدقے سے بے نیاز ہے اور اس دوسرے شخص نے جو صدقہ کیا وہ محض دکھاوے کے لئے ہے۔تب یہ آیت نازل ہوئی الَّذِینَ يَلْمِزُونَ الْمُطَوَعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَاقْتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهَدَاهُمُ فَيَسْخَرُونَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللَّهُ مِنْهُمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ الیہ (351 - 79) یہ منافق ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقے دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔سو باوجود اس قربانی کے منافق ان پر ہنسی کرتے ہیں اور اللہ ان میں سے اشد مخالفوں کو ہنسی کی سزا دے گا اور ان کو درد ناک عذاب پہنچے گا۔145 اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ان کے عجیب عجیب نظارے ہیں۔کس طرح یہ کوشش کرتے تھے اور ان لوگوں کے انہی نمونوں کو قبول کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین فرمائی۔صاحب الصاع اس واقعہ کی تفصیل علامہ ابن حجر عسقلانی یوں بیان فرماتے ہیں کہ انہیں صاحب الصاع بھی کہتے ہیں یعنی حضرت ابو عقیل کو صاحب الصاع بھی کہا جاتا ہے۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اپنا آدھا مال لے کر آئے۔انصار کے غریب مسلمانوں میں سے ایک شخص ابو عقیل آگے بڑھے اور کہنے لگے یار سول اللہ میں کھجور کے دو صاع کے عوض رات بھر کنوئیں سے ڈول کھینچتارہا اور ایک صاع میں نے اپنے گھر والوں کے لئے رکھ دیا ہے اور دوسر اصاع یہ ہے۔بعض روایتوں میں ایک صاع میں سے نصف صاع دینے کا ذکر ہے۔یعنی آدھا میں نے گھر رکھ لیا اور آدھا لے کر آیا ہوں۔تو منافقوں نے کہا کہ اللہ اور اس کے رسول صلی العلم ابو عقیل کے صاع سے غنی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الَّذِينَ يَلْمِزُونَ الْمُطَّوعِينَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ فِي الصَّدَقَتِ وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهَدَ هُمُ (التوبه (7) یعنی یہ منافق ہیں جو مومنوں میں سے خوشی سے بڑھ بڑھ کر صدقہ دینے والوں پر طنز کرتے ہیں اور ان پر بھی جو کہ سوائے اپنی محنت کی کمائی کے کوئی طاقت نہیں رکھتے۔مسیلمہ کذاب پر آخری وار کرنے والے آپ ہی وہ انصاری صحابی تھے جنہوں نے مسیلمہ کذاب پر آخری وار کیا تھا۔چنانچہ ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ جنگ یمامہ کے دن مسلمانوں میں سب سے پہلے حضرت ابو عقیل انیفی زخمی ہوئے۔ان کو کندھوں اور دل کے درمیان تیر لگا تھا جو لگ کر ٹیڑھا ہو گیا تھا جس سے وہ شہید نہ ہوئے۔پھر وہ تیر نکالا گیا۔ان کی بائیں جانب اس تیر کے لگنے کی وجہ سے کمزوری ہو گئی تھی۔یہ شروع دن کی بات ہے۔پھر انہیں اٹھا کر ان کے خیمہ میں لایا گیا۔جب لڑا ئی گھمسان کی ہونے لگی اور مسلمانوں کو شکست ہوئی یہاں تک کہ مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے اپنی قیام گاہوں سے بھی پیچھے چلے گئے۔