اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 45
45 18 صحاب بدر جلد 4 حضرت ابو دجانہ انصاری سماك بن خرشه رسول الله صلى الل علم کی تلوار لے کر اس کا حق ادا کرنے والے صحابی نام و نسب و کنیت ابود جانہ حضرت سماک بن خرشہ۔حضرت ابودجانہ کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج کی شاخ بنو ساعدہ سے ہے۔حضرت ابودجانہ کے والد کا نام خرشہ تھا۔بعض کہتے ہیں کہ اوس تھا اور ان کے دادا کا نام خرشہ تھا۔حضرت ابودجانہ کی والدہ کا نام حَزْمَہ بنت حرملہ تھا۔آپ اپنے نام کی نسبت اپنی کنیت ابودجانہ سے زیادہ مشہور تھے۔حضرت ابودجانہ کا ایک بیٹا تھا جس کا نام خالد تھا اور اس کی والدہ کا نام آمنہ بنت عمر د تھا۔مواخات 107 108 حضرت عتبہ بن غزوان مکے سے ہجرت کر کے جب مدینہ پہنچے تو رسول اللہ صلی علیم نے ان کے اور حضرت ابو دجانہ کے درمیان مواخات قائم فرمائی۔8 تمام غزوات میں شمولیت 109 حضرت ابودجانہ غزوہ بدر، احد اور دیگر تمام غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ہمراہ رہے۔9 حضرت ابودجانہ کا شمار انصار کے کبار صحابہ میں ہوتا تھا اور انہیں رسول اللہ صلی این نیم کے غزوات میں نمایاں حیثیت حاصل تھی۔110 سرخ رومال باندھ کر جنگ میں بہادری کے جوہر دکھانے والے جب جنگ ہوتی تو حضرت ابودجانہ بہت شجاعت کا اظہار کرتے اور وہ کمال کے گھوڑ سوار تھے۔ان کے پاس سرخ رنگ کا ایک رومال تھا جسے وہ صرف جنگ کے وقت سر پر باندھتے تھے۔جب وہ سرخ رومان سر پر باندھتے تو لوگوں کو علم ہو جاتا کہ اب وہ لڑائی کے لیے تیار ہیں۔حضرت ابودجانہ کا شمار دلیر اور بہادر لوگوں میں ہو تا تھا۔111 محمد بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابو دجانہ جنگوں میں اپنے سرخ عمامے کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے اور غزوہ بدر میں بھی یہ ان کے سر پر تھا اور محمد بن عمر کہتے ہیں کہ حضرت ابودجانہ غزوہ احد میں بھی اسی طرح شامل ہوئے اور رسول اللہ صلی المینیوم کے ساتھ ثابت قدم رہے اور