اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 577
اصحاب بدر جلد 4 577 سلطنت تباہ ہو گئی۔پھر میں نے آپ صلی اللہ ہم کو اس کے محل کے دربان منڈی کا سلام پہنچایا اور اس نے جو کچھ کہا وہ سب کچھ بتلایا۔آپ صلی الیم نے فرمایا کہ اس نے سچ کہا۔سیرۃ الحلبیہ میں یہ سارا واقعہ بیان ہے۔1311 عنسانی قبائل کے حملوں کا خوف حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے تاریخ کی مختلف کتابوں سے لے کر جو باتیں بیان کی ہیں اس میں سے جو چند زائد باتیں ہیں وہ یہ ہیں کہ آپ لکھتے ہیں کہ پانچواں تبلیغی خط ریاست غسان کے فرمانروا حارث بن ابی شمر کے نام لکھا گیا۔غسان کی ریاست عرب کے ساتھ متصل جانب شمال واقع تھی اور اس کار میں قیصر کے ماتحت ہوا کرتا تھا۔جب حضرت شجاع بن وہب وہاں پہنچے تو حارث اس وقت قیصر کی فتح کے جشن کے لئے تیاری کر رہا تھا۔جو شاہ روم تھا اس کی فتح کا جشن تھا اس کے لئے وہاں کار کیس تیاری کر رہا تھا۔حارث سے ملنے سے پہلے شجاع بن وہب اس کے دربان یعنی مہتم ملاقات سے ملے۔وہ ایک اچھا آدمی تھا۔اس نے شجاع کی زبانی آنحضرت صلی علی کم کی باتیں سن کر فی الجملہ ان کی تصدیق کی۔بہر حال چند دن کے انتظار کے بعد وہی واقعہ بیان ہوا کہ شجاع بن وہب کو رئیس غسان کے دربار میں رسائی ہو گئی۔انہوں نے آنحضرت صلی علیہ علم کا خط پیش کیا۔حارث نے خط پڑھ کر غصہ سے پھینک دیا اور نہ صرف غصہ سے پھینک دیا بلکہ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے فوجوں کو حملہ کے لئے تیاری کا حکم دیا اور اس دوران اس نے قیصر کو بھی یہ خط بھیجا اور یہ بتایا کہ میں فوج کشی کرنے لگاہوں تو قیصر نے کہا کہ فوج کشی نہ کرو اور مجھے آکر دربار کی شرکت کے لئے ایلیاء یعنی بیت المقدس میں ملو۔قیصر نے اس رئیس کو بلایا۔بہر حال یہ تو معاملہ ان کا وہیں ختم ہو گیا۔حدیث اور تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ مدینہ میں ایک عرصہ تک اس بات کا خوف رہا کہ غسانی قبائل مسلمانوں کے خلاف کب حملہ کرتے ہیں۔کافی عرصہ تک یہ خوف رہا۔اس جواب کی وجہ سے جو شمر نے آپ کے صحابی کو دیا تھا۔ماہ ربیع الاول سنہ 8 ہجری میں رسول اللہ صلی اللی کم کو خبر ملی کہ بنو ہوازن کی ایک شاخ بنو عامر مسلمانوں کے خلاف لڑائی کی تیاری کر رہے ہیں۔حضور صلی ا ہم نے حضرت شجاع کو 24 مجاہدین دے کر ان لوگوں کی سرکوبی پر مامور فرمایا جو مدینہ پر حملہ کرنے لگے تھے۔اس وقت بنو عامر کے لوگ مدینہ سے پانچ راتوں کی مسافت پر الٹتی جو مکہ اور بصرہ کے درمیان ایک مقام ہے اس پر خیمہ لگائے بیٹھے تھے۔آپ یعنی حضرت شجاع مجاہدین کے ساتھ رات کو سفر کرتے اور دن کو چھپے رہتے یہاں تک کہ اچانک صبح کے وقت بنو عامر کے سر پر جا پہنچے۔وہ لوگ مسلمانوں کو اچانک اپنے سر پر دیکھ کر بوکھلا گئے باوجود اس کے کہ وہ حملے کی تیاری کے لئے نکلے تھے اور پوری فوج بنا کے نکلے تھے اور سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔1312