اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 574 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 574

تاب بدر جلد 4 574 میں حضرت سُوَيْبَط ایک قوم کے پاس سے گزرے تو سویبَط نے ان سے کہا کیا تم مجھ سے میرا ایک غلام خرید و گے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں۔سُوَیبَط نے اس قبیلے والوں کو کہا کہ وہ غلام بولنے والا ہے یاد رکھنا۔اور یہی کہتا رہے گا کہ میں آزاد ہوں۔جب تمہیں وہ یہ بات کہے تو تم اس کو چھوڑ کر میرے غلام کو میرے لیے خراب نہ کرنا۔انہوں نے جواب دیا کہ نہیں بلکہ ہم اسے تجھ سے خریدنا چاہتے ہیں۔تو انہوں نے دس اونٹنیوں کے عوض اس غلام کو خرید لیا۔پھر وہ لوگ حضرت نعیمان کے پاس آئے اور ان کے گلے میں پگڑی یارسی ڈالی۔نعیمان بولے کہ یہ شخص تم سے مذاق کر رہا ہے۔میں آزاد ہوں غلام نہیں۔لیکن انہوں نے جواب دیا کہ اس نے تمہارے بارے میں پہلے ہی ہمیں بتادیا تھا کہ تم یہی کہو گے اور وہ پکڑ کے لے گئے۔جب حضرت ابو بکر واپس آئے اور لوگوں نے اس کے متعلق آپ کو بتایا تو آپ ان لوگوں کے پیچھے گئے اور ان کو ان کی اونٹنیاں واپس دیں اور نعیمان کو واپس لیا۔واپس لے آئے اور کہا یہ آزاد ہے غلام نہیں ہے۔انہوں نے مذاق کیا تھا۔اس طرح کے مذاق بھی صحابہ میں چلتے تھے۔بہر حال جب یہ لوگ واپس پہنچے، نبی کریم صلی علیکم کے پاس آئے تو آپ کو بتایا تو راوی بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ملی امی اور آپ کے صحابہ ایک سال تک اس سے حظ اٹھاتے رہے۔آنحضرت صلی علیکم بھی اس بات پر خوب ہنسے اور ایک سال تک لطیفہ مشہور رہا۔بہر حال مندرجہ بالا واقعہ ایک فرق کے ساتھ بعض کتب میں اس طرح بھی ملتا ہے۔لکھا ہے کہ فروخت کرنے والے حضرت سُوَيْبَط نہیں بلکہ حضرت نعیمان تھے۔1307 1306 163 حضرت شجاع بن وہب حضرت شجاع بن وہب جو وہب بن ربیعہ کے بیٹے تھے۔ان کی وفات جنگ یمامہ میں ہوئی۔آپ کو شجاع بن ابی وہب بھی کہا جاتا ہے۔آپ کا خاندان بنو عبد شمس کا حلیف تھا۔آپ طویل القامت پتلے جسم والے اور نہایت گھنے بالوں والے تھے۔حبشہ اور پھر مدینہ کی طرف ہجرت کرنے والے حضرت شجاع کا شمار ان بزرگ صحابہ میں ہوتا ہے جنہوں نے ابتداء ہی میں آنحضرت صلی ا ہم کو لبيك کہا تھا۔بعثت نبوی صلی الم کے چھ سال بعد حضور صلی للی یکم کے ایماء پر مہاجرین حبشہ کے دوسرے