اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 568 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 568

اصحاب بدر جلد 4 568 مہاجرین کے لیے تھا جو بے گھر بار تھے ، جن کا کوئی گھر نہیں ہوتا تھا۔یہ لوگ یہیں رہتے تھے اور اصحاب الصفہ کہلاتے تھے۔ان کا کام گویا دن رات آنحضرت صلی اللہ کم کی صحبت میں رہنا، عبادت کرنا اور قرآن شریف کی تلاوت کرنا تھا۔ان لوگوں کا کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا۔آنحضرت صلی علیہ یکم خود ان کی خبر گیری فرماتے تھے اور جب کبھی آپ کے پاس کوئی ہدیہ وغیرہ آتا تھا یا گھر میں کچھ ہو تا تھا تو ان کا حصہ ضرور نکالتے تھے۔ان لوگوں کا کھانا پینا اکثر آنحضرت صلی یی کم کیا کرتے تھے بلکہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ نام خود فاقہ کرتے اور جو کچھ گھر میں ہو تا تھا وہ اصحاب الصفہ کو بھجوا دیتے تھے۔انصار بھی ان لوگوں کی مہمان نوازی میں حتی المقدور مصروف رہتے تھے اور ان کے لیے کھجوروں کے خوشے لالا کر مسجد میں لٹکا دیا کرتے تھے۔لیکن اس کے باوجود ان کی حالت تنگ رہتی تھی اور بسا اوقات فاقے تک نوبت پہنچ جاتی تھی اور یہ حالت کئی سال تک جاری رہی حتی کہ کچھ تو مدینہ کی آبادی کی وسعت کے نتیجہ میں ان لوگوں کے لیے کام نکل آیا مزدوری وغیرہ ملنے لگ گئی اور کچھ قومی بیت المال سے امداد کی صورت پیدا ہو گئی۔حالات بہتر ہوئے تو ان کی مدد ہونے لگ گئی۔مسجد کے ساتھ ملحق طور پر آنحضرت صلی للی کم کے لیے رہائشی مکان تیار کیا گیا تھا۔مکان کیا تھا ایک دس پندرہ فٹ کا چھوٹا سا حجرہ تھا اور اس حجرے اور مسجد کے درمیان ایک دروازہ رکھا گیا تھا جس میں سے گزر کر آپ نماز وغیرہ کے لیے مسجد میں تشریف لاتے تھے۔جب آپ صلی نمیریم نے اور شادیاں کیں تو اسی حجرے کے ساتھ دوسرے حجرات بھی تیار ہوتے گئے اور مسجد کے آس پاس بعض اور صحابہ کے مکانات بھی تیار ہو گئے۔یہ تھی مسجد نبوی جو مدینہ میں تیار ہوئی اور اس زمانہ میں چونکہ اور کوئی پبلک عمارت ایسی نہیں تھی جہاں قومی کام سر انجام دیے جاتے۔اس لیے ایوانِ حکومت کا کام بھی یہی مسجد دیتی تھی۔یہی دفتر تھا۔یہی حکومت کا پورا سیکر ٹریٹ (secretariat) تھا۔یہیں آنحضرت صلی الی یکم کی مجلس لگتی تھی۔یہیں تمام قسم کے مشورے ہوتے تھے۔یہیں مقدمات کا فیصلہ کیا جاتا تھا۔یہیں سے احکامات صادر ہوتے تھے۔یہی قومی مہمان خانہ تھا یعنی جو مہمان خانہ تھا وہ بھی یہی مسجد ہی تھا۔اور ہر قومی کام جو تھا وہ اسی مسجد میں سر انجام دیا جا تا تھا۔اور ضرورت ہوتی تھی تو اسی سے جنگی قیدیوں کا جبس گاہ کا کام بھی لیا جا تا تھا۔یعنی یہیں مسجد میں جنگی قیدی بھی رکھے جاتے تھے اور بہت سارے قیدی ایسے بھی تھے جب مسلمانوں کو عبادت کرتے اور آپس کی محبت اور پیار دیکھتے تو ان میں سے پھر مسلمان بھی ہوئے۔مسجد نبوی اور سرولئیم میور بہر حال اس کے بارے میں سرولیم میور بھی ذکر کرتا ہے جو ایک مستشرق ہے اور اسلام کے خلاف بھی اور آنحضرت صلی الیہ کے خلاف بھی کافی لکھتا ہے ، لیکن وہ یہاں اس کے بارے میں لکھتا ہے کہ گو یہ مسجد سامان تعمیر کے لحاظ سے نہایت سادہ اور معمولی تھی لیکن محمد علی ای نیم کی یہ مسجد اسلامی تاریخ میں ایک خاص شان رکھتی ہے۔رسول خدا اور ان کے اصحاب اسی مسجد میں اپنے وقت کا بیشتر