اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 567 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 567

ناب بدر جلد 4 567 1289 ایک روایت کے مطابق اس زمین کی یہ جور تم تھی حضرت ابو بکر صدیق نے ادا کی تھی۔پھر لکھتے ہیں کہ جگہ کو ہموار کر کے اور درختوں کو کاٹ کر مسجد نبوی کی تعمیر شروع ہو گئی۔آنحضرت صلی الم نے خود دعا مانگتے ہوئے سنگ بنیاد رکھا اور جیسا کہ قبا کی مسجد میں ہوا تھا صحابہ نے معماروں اور مزدوروں کا کام کیا جس میں کبھی کبھی آنحضرت صلی اللہ علم خود بھی شرکت فرماتے تھے۔بعض اوقات اینٹیں اٹھاتے صحابہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ انصاری کا یہ شعر پڑھتے تھے کہ : هَذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَيْبَر هَذَا أَبَرُ رَبَّنَا وَأَظْهَرُ یعنی یہ بوجھ خیبر کے تجارتی مال کا بوجھ نہیں ہے جو جانوروں پر لد کر آیا کرتا ہے۔بلکہ اے ہمارے مولی ! یہ بوجھ تقویٰ اور طہارت کا بوجھ ہے جو ہم تیری رضا کے لیے اٹھاتے ہیں۔اور کبھی کبھی صحابہ کام کرتے ہوئے عبد اللہ بن رواحہ کا یہ شعر پڑھتے تھے کہ فَارْحَمِ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَة اللَّهُمَّ اِنَّ الْأَجْرَ أَجْرُ الْآخِرَة یعنی اے ہمارے اللہ ! اصل اجر تو صرف آخرت کا اجر ہے پس تو اپنے فضل سے انصار اور مہاجرین پر اپنی رحمت نازل فرما۔جب صحابہ یہ شعر پڑھتے تھے یا اشعار پڑھتے تھے تو بعض اوقات آنحضرت صلی الیم بھی ان کی آواز کے ساتھ آواز ملادیتے تھے اور اس طرح ایک لمبے عرصہ کی محنت کے بعد یہ مسجد مکمل ہوئی۔مسجد کی عمارت پتھروں کی سلوں اور اینٹوں کی تھی جو لکڑی کے کھمبوں کے درمیان چنی گئی تھی۔اس زمانے میں مضبوط عمارت کے لیے یہ رواج تھا کہ لکڑی کے بلاک کھڑے کر کے، کھمبے بنا کر یا pillar بنا کر اس کے اندر یہ اینٹیں اور مٹی کی دیوار میں لگائی جاتی تھیں تاکہ مضبوطی قائم رہے۔یہ اس کا سٹرکچر (stricture) ہو تا تھا اور چھت پر کھجور اور تنے اور شاخیں ڈالی گئیں تھیں۔مسجد کے اندر چھت کے سہارے کے لیے کھجور کے ستون تھے اور جب تک منبر کی تجویز نہیں ہوئی، وہ منبر جہاں کھڑے ہو کر آنحضرت صلی ال یکم خطبہ دیا کرتے تھے انہی ستونوں میں سے ایک ستون کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علم خطبہ کے وقت ٹیک لگا کر کھڑے ہو جاتے تھے۔مسجد کا فرش کچا تھا اور چونکہ زیادہ بارش کے وقت چھت ٹیکنے لگتی تھی اس لیے ایسے اوقات میں فرش پر کیچڑ ہو جاتا تھا۔چنانچہ اس تکلیف کو دیکھ کر بعد میں کنکریوں کا فرش بنوا دیا گیا۔چھوٹے چھوٹے پتھر وہاں ڈالے گئے۔شروع شروع میں مسجد کا رخ بیت المقدس کی طرف رکھا گیا تھا لیکن تحویل قبلہ کے وقت یہ رخ بدل دیا گیا۔مسجد کی بلندی یعنی height اس وقت دس فٹ تھی۔(چھت دس فٹ اونچی تھی) اور طول ایک سو پانچ فٹ۔(لمبائی ایک سو پانچ فٹ تھی) اور عرض 90 فٹ کے قریب تھا۔( چوڑائی جو تھی نوے فٹ تھی لیکن بعد میں اس کی توسیع کر دی گئی۔یہ بھی جو 105 فٹ اور 90 فٹ کا رقبہ بنتا ہے یہ تقریباً پندرہ سولہ سو نمازیوں کے لیے جگہ بنتی ہے۔مسجد کے ایک گوشے میں ایک چھت دار چبوترا بنایا گیا تھا جسے صفہ کہتے تھے۔یہ ان غریب