اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 559
اصحاب بدر جلد 4 559 1268 تین دن اور راتیں مکہ میں قیام کیا اور لوگوں کی وہ امانتیں جو آنحضرت صلی ایم کے سپر د تھیں وہ انہیں واپس کیں۔پھر حضرت علی آ نحضرت صلی للی نام سے جاملے اور آپ کے ساتھ حضرت کلثوم بن ھذم کے ہاں ٹھہرے۔دوران سفر ایک دورات قبا میں حضرت علی کا قیام رہا۔آپ بیان کرتے تھے کہ قبامیں ایک مسلمان عورت تھی جس کا خاوند نہیں تھا۔کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رات گئے ایک آدمی آ کے اس کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔اس پر وہ عورت باہر آتی ہے۔وہ آدمی کوئی چیز اسے دیتا ہے اور وہ لے لیتی ہے۔آپ کہتے ہیں کہ مجھے اس معاملہ پر شک ہوا۔میں نے اس عورت سے کہا کہ اے اللہ کی بندی! یہ آدمی کون ہے جو ہر رات تمہارے دروازے پر دستک دیتا ہے اور جب تم باہر آتی ہو تو تمہیں کوئی چیز پکڑا جاتا ہے جس کا مجھے پتہ نہیں کہ وہ کیا چیز ہوتی ہے۔اور تم ایک مسلمان عورت ہو تمہارا شوہر بھی نہیں ہے اس لئے یہ اس طرح رات کو نکلنا اور کسی غیر مرد سے اس طرح بات کرنا یا چیز لینا ٹھیک نہیں ہے۔اس عورت نے کہا کہ یہ سھل بن محنیف ہیں۔انہیں معلوم ہے کہ میں اکیلی عورت ہوں اور میرا کوئی نہیں ہے۔اس لئے جب شام ہوتی ہے تو یہ اپنے لوگوں کے، قوم کے، رشتہ داروں کے بتوں کو توڑتے ہیں اور پھر مجھے لا کر دے دیتے ہیں تاکہ میں انہیں جلا دوں۔اور ابن اسحاق بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی حضرت سہل کی وفات تک آپ کا یہ واقعہ بیان کرتے تھے یعنی کہ اپنے لوگوں میں شرک مٹانے کے لئے آپ نے یہ ایک ترکیب استعمال کی۔جنگ احد میں ثابت قدم رہنے والے عظیم المرتبت صحابی حضرت سهل بن حنيف ان عظیم المرتبت صحابہ میں سے تھے جنہوں نے اُحد کے روز ثابت قدمی دکھائی۔اس روز انہوں نے موت پر آنحضور صلی علیم کی بیعت کی۔آپ اس وقت آنحضور صلی نیم قدمی دکھائی۔اس روز انہوں نے موت کچھ علیکم کے آگے ڈھال بن کر ڈٹے رہے۔جب دشمن کے شدید حملے کی وجہ سے مسلمان بکھر گئے تھے اس دن انہوں نے آنحضور صلی کم کی طرف سے تیر چلائے۔رسول اللہ صلی الم نے فرمایا۔کہ سہل کو تیر پکڑاؤ کیونکہ تیر چلانا اس کے لئے آسان امر ہے۔پھر بیان کیا جاتا ہے کہ غزول ایک ماہر نیزہ باز یہودی تھا اس کا پھینکا ہوا نیزہ وہاں تک پہنچ جاتا تھا جہاں دوسروں کے نیزے نہیں پہنچ سکتے تھے۔بنو نضیر کے محاصرہ کے ایام میں آنحضرت صلی علیکم کے لئے ایک خیمہ تیار کیا گیا۔غزول نے نیزہ پھینکا جو کہ اس خیمے تک پہنچ گیا۔اس پر رسول اللہ صلی علیہم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اس کو یعنی خیمہ کو وہاں سے ہٹا دیں۔چنانچہ اس کی جگہ تبدیل کر دی گئی۔پھر اس کے بعد حضرت علی اس خص کی گھات میں گئے۔غزول ایک گروہ کو ساتھ لئے مسلمانوں کے کسی بڑے سردار کو قتل کرنے کے ارادے سے نکل رہا تھا۔حضرت علی نے موقع پا کر اسے قتل کر دیا اور اس کا سر آنحضرت صلی یکم کی خدمت میں پیش کیا۔اس کے ساتھ جو لوگ تھے وہ بھاگ گئے۔ان لوگوں کی سرکوبی کے لئے آنحضرت صلی العلم نے حضرت علی کی ہی قیادت میں دس افراد پر مشتمل ایک دستہ روانہ فرمایا جنہوں نے ان لوگوں کا تعاقب کر 1269