اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 532 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 532

ب بدر جلد 4 532 گئے۔جب رسول اللہ صلی علیم سے اس بات کا ذکر کیا گیا کہ سعد کے گھر والے آپ کی گود میں اس کا سر دیکھ کر ڈر گئے تھے تو آپ نے یہ دعادی۔رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا: میں اللہ سے اس بات کا طالب ہوں کہ جس قدر تم لوگ اس وقت گھر میں موجود ہو اتنی ہی زیادہ تعداد میں فرشتے حضرت سعد کی وفات کے وقت حاضر ہوں۔1190 سعد بن معاذ کے رومال جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت ہوں گے حضرت انس سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی للی علم کو باریک ریشمی کپڑے کا ایک چونہ تحفہ دیا گیا۔آپ ریشمی کپڑا پہنے سے منع فرمایا کرتے تھے۔وہ کپڑا دیکھ کر لوگوں کو تعجب ہوا۔آپ صلی الی یکم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے سعد بن معاذ کے رومال جنت میں اس سے زیادہ خوبصورت ہوں گے۔یہ بخاری کی حدیث ہے۔191۔انہوں نے ہاتھ میں کپڑا دیکھا۔ان کا خیال تھا شاید نبی کریم صلی الی یوم اس کو استعمال کریں گے کیونکہ آپ تو منع فرمایا کرتے تھے لیکن بہر حال آپ نے اس کو دیکھ کے یہ مثال دی کہ تم اس پر حیران ہو رہے ہو بلکہ حیرت کا اظہار کیا۔اصل میں تو دوسری حدیث سے واضح ہو تا ہے کہ لوگوں نے حیرت کا اظہار کیا جیسا کہ مسلم کی حدیث میں ہے۔اس کی روایت اس طرح ہے کہ حضرت برا کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی علیم کی خدمت میں ایک ریشمی چوغہ تحفہ پیش کیا گیا جسے آپ کے صحابہ چھونے لگے اور اس کی نرمی پر تعجب کا اظہار کرنے لگے۔اس پر آپ نے فرمایا کیا تم اس کی نرمی پر تعجب کرتے ہو یقینا جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے زیادہ بہتر اور زیادہ نرم ہیں۔سعد کی موت پر خدائے رحمان کا عرش جھومنے لگ گیا ہے 1193 1192 1194 حضرت جابر سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم صلی علیم سے سنا آپ فرماتے تھے سعد بن معاذ کی وفات پر عرش کانپ گیا۔یہ بخاری کی روایت ہے۔3 اور مسلم میں اس طرح ہے کہ حضرت انس بن مالک نے بیان کیا کہ اللہ کے نبی صلی ہم نے جبکہ حضرت سعد شما جنازہ رکھا ہوا تھا فرمایا کہ اس کی وجہ سے رحمان کا عرش لرز اُٹھا۔4 ان باتوں کی تفصیل اور تھوڑی سی وضاحت حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں فرمائی ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ ”حضرت سعد بن معاذ رئیس قبیلہ اوس کی کلائی میں جو زخم غزوہ خندق کے موقعہ پر آیا تھا وہ باوجود بہت علاج معالجہ کے اچھا ہونے میں نہیں آتا تھا اور مندمل ہو ہو کر پھر کھل کھل جاتا تھا۔چونکہ وہ ایک بہت مخلص صحابی تھے اور آنحضرت صلی اللہ تم کو ان کی تیمار داری کا خاص خیال تھا۔اس لیے آپ نے غزوہ خندق کی واپسی پر ان کے متعلق ہدایت فرمائی تھی کہ انہیں مسجد کے صحن میں ایک خیمہ میں رکھا جائے تا آپ آسانی کے ساتھ ان کی تیمارداری فرما سکیں۔چنانچہ انہیں ایک مسلمان عورت رفیدہ نامی کے خیمہ میں رکھا گیا جو بیماروں کی تیمارداری اور نرسنگ میں مہارت رکھتی تھی یعنی وہ ایسا