اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 531
اصحاب بدر جلد 4 531 عیادت کے لئے مسجد نبوی میں خیمہ نصب شخص حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ خندق کے روز حضرت سعد کو زخم آیا۔قریش کے ایک حبان بن عَرِقَہ نے آپ کی کلائی پر تیر مارا تھا۔رسول اللہ صلی علی کریم نے مسجد میں ان کے لیے ایک خیمہ نصب کیا تا کہ قریب رہ کر ان کی عیادت کر سکیں۔1189 حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ حضرت سعد گاز خم خشک ہو کر اچھا ہونے لگا تو انہوں نے دعا کی کہ اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ مجھے تیری راہ میں اس قوم کے خلاف جہاد کرنے سے بڑھ کر کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں جس نے تیرے رسول کو جھٹلایا اور اسے نکال دیا۔اے اللہ ! میں خیال کرتا ہوں کہ تو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے۔اگر قریش کی جنگ میں سے کچھ باقی ہے تو مجھے ان کے مقابلے کے لیے زندہ رکھ۔اگر ابھی مزید کچھ جنگیں ہوتی ہیں تو پھر مجھے اس وقت تک زندہ رکھ تاکہ میں تیری راہ میں ان سے جہاد کر سکوں اور اگر تُو نے ہمارے اور ان کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے جس طرح کہ میری سوچ ہے تو پھر میری رگ کھول دے اور اس زخم کو میری شہادت کا ذریعہ بنادے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ زخم اسی رات پھٹ گیا اور اس میں سے خون بہ نکلا۔مسجد نبوی میں بنو غفار کے لوگ خیمہ زن تھے۔خون بہ کر جب ان کے پاس پہنچا تو وہ خوفزدہ ہو گئے۔لوگوں نے کہا اے خیمے والو ! یہ خون کیسا ہے جو تمہاری طرف سے ہمارے پاس آرہا ہے۔کیا دیکھتے ہیں کہ حضرت سعد کے زخم سے خون بہ رہا تھا اور اسی سے ان کی وفات ہو گئی۔یہ محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ حضرت سعد بن معاذ کا خون بہنے لگا تو رسول اللہ صلی للی علم اٹھ کر ان کی طرف گئے اور انہیں اپنے ساتھ چمٹایا۔خون رسول اللہ صلی علی ایم کے منہ اور داڑھی پر لگ رہا تھا۔جس قدر کوئی شخص آپ کو خون سے بچانا چاہتا تھا یعنی جس طرح وہ بہ رہا تھا لوگوں کی کوشش تھی کہ آپ کو خون نہ لگے، اس سے زیادہ آپ حضرت سعد کے قریب ہو جاتے تھے یہاں تک کہ حضرت سعد وفات پاگئے۔ایک اور روایت میں ہے کہ جب حضرت سعد بن معاذ گاز خم پھٹ گیا اور نبی کریم صلی علیہم کو معلوم ہو ا تو آپ ان کے پاس تشریف لائے، ان کا سر اپنی گود میں رکھا اور انہیں سفید چادر سے ڈھانپ دیا گیا۔پھر رسول اللہ صلی علی یکم نے دعا کی کہ اے اللہ !سعد نے تیری راہ میں جہاد کیا اور تیرے رسول کی تصدیق کی اور جو اس کے ذمے تھا اسے ادا کر دیا پس تو اس کی روح کو اس خیر کے ساتھ قبول فرما جس کے ساتھ تو کسی روح کو قبول کرتا ہے۔جب حضرت سعد نے ، کچھ تھوڑی سی ہوش تھی، اس وقت قریب المرگ تھے ، حضرت سعد نے جب رسول اللہ صلی علیم کے کلمات سنے تو انہوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ پر سلام ہو۔میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔جب سعد کے گھر والوں نے دیکھا کہ آنحضرت صلی علیم نے حضرت سعد کا سر اپنی گود میں رکھا ہوا ہے تو وہ ڈر