اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 529
ب بدر جلد 4 529 پسپا ہو اوہ بنو نضیر ہی کی اشتعال انگیز کوششوں کا نتیجہ تھا یا کم از کم یہ سمجھا جاتا تھا کہ وہ ان کی کوششوں کا یہ ہے اور بنو نضیر وہ تھے جنہیں محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم) نے صرف جلاوطن کر دینے پر اکتفا کی تھی۔اب سوال یہ تھا کہ کیا محمد صاحب علی علیکم بنو قریظہ کو بھی جلا وطن کر کے اپنے خلاف اشتعال انگیز کوششیں کرنے والوں کی تعداد اور طاقت میں اضافہ کر دیں؟ دوسری طرف وہ قوم مدینہ میں بھی نہیں رہنے دی جاسکتی تھی جس نے اس طرح بر ملا طور پر حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا۔ان کا جلاوطن کرنا غیر محفوظ تھا مگر ان کا مدینہ میں رہنا بھی کم خطر ناک نہ تھا۔پس اس فیصلہ کے بغیر چارہ نہ تھا کہ ان کے قتل کا حکم دیا جاتا۔“ یہ مار گولیس لکھ رہا ہے۔” پس سعد کا فیصلہ بالکل منصفانہ اور عدل و انصاف کے قواعد کے بالکل مطابق تھا اور آنحضرت صلی علیہ کی وجہ اپنے عہد کے اس فیصلے کے متعلق رحم کے پہلو کو کام میں نہیں لا سکتے تھے سوائے چند افراد کے اور اس کے لیے آپ نے ہر ممکن کوشش کی جنہوں نے رحم کی اپیل کی۔عمومی فیصلہ نہیں دے سکتے تھے۔مگر معلوم ہوتا ہے کہ یہود نے اس شرم سے کہ انہوں نے آپ کو حج ماننے سے انکار کر دیا تھا آپ کی طرف رحم کی اپیل کی صورت میں زیادہ رجوع نہیں کیا۔صرف چند ایک نے کیا اور ظاہر ہے کہ بغیر اپیل ہونے کے آپ رحم نہیں کر سکتے تھے کیونکہ جو باغی اپنے جرم پر ندامت کا اظہار بھی نہیں کرتا اسے خود بخود چھوڑ دینا سیاسی طور پر نہایت خطرناک نتائج پیدا کر سکتا ہے۔ایک اور بات یادر کھنی ضروری ہے کہ جو معاہدہ آنحضرت صلی یم اور یہود کے درمیان ابتدا میں ہو ا تھا اس کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی تھی کہ اگر یہود کے متعلق کوئی امر قابل تصفیہ پیدا ہو گا تو اس کا فیصلہ خود انہیں کی شریعت کے ماتحت کیا جائے گا یعنی یہود کی شریعت کے مطابق۔چنانچہ تاریخ سے پتہ لگتا ہے کہ اس معاہدہ کے ماتحت آنحضرت صلی علی کل ہمیشہ یہود کے متعلق شریعت موسوی کے مطابق فیصلہ فرمایا کرتے تھے۔اب ہم تو رات پر نگاہ ڈالتے ہیں تو وہاں اس قسم کے جرم کی سزا جس کے مر تکب بنو قریظہ ہوئے بعینہ وہی لکھی ہوئی پاتے ہیں جو سعد بن معاذ نے بنو قریظہ پر جاری کی۔1182 بہر حال بنو قریظہ کے معاملے کے بارے میں حضرت سعد بن معاذ کا جہاں تک ان سے تعلق تھا اس کی اتنی ہی تفصیل یہاں کافی ہے۔جنگ احزاب میں حضرت سعد گاز خمی ہونا 1183 غزوہ احزاب اور حضرت سعد بن معاذ کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین ہمیں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے یوں لکھا ہے کہ: ”اس لڑائی میں مسلمانوں کا جانی نقصان زیادہ نہیں ہوا۔یعنی صرف پانچ چھ آدمی شہید ہوئے مگر قبیلہ اوس کے رئیس اعظم سعد بن معاذ کو ایسا کاری زخم آیا کہ وہ بالآخر اس سے جانبر نہ ہو سکے اور یہ نقصان مسلمانوں کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان تھا۔کفار کے لشکر میں سے صرف تین آدمی قتل