اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 511
ب بدر جلد 4 511 تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔یہ مخلصین بھی میرے نزدیک ان مُعَقِّبَات میں سے تھے 1164cc حضرت مصلح موعودؓ سورہ رعد کی آیت 12 جو اس طرح شروع ہوتی ہے کہ لَهُ مُعَقِّبْتُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ (الرعد: 12) یعنی اس کے لیے اس کے آگے اور پیچھے چلنے والے محافظ مقرر ہیں۔اس کی تفسیر فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی علیکم کا تمام زمانہ نبوت اس حفاظت کا ثبوت دیتا ہے۔جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا۔آگے اور پیچھے ہم نے محافظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔چنانچہ مکہ معظمہ میں آپ کی حفاظت فرشتے ہی کرتے تھے ورنہ اس قدر دشمنوں میں گھرے ہوئے رہ کر آپ کی جان کس طرح محفوظ رہ سکتی تھی۔ہاں مدینہ تشریف لانے پر دونوں قسم کی حفاظت آپ کو حاصل ہوئی۔آسمانی فرشتوں کی بھی اور زمینی فرشتوں یعنی صحابہ کی بھی۔بدر کی جنگ اس ظاہری اور باطنی حفاظت کی ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔حضور جب مدینہ تشریف لے گئے تھے تو آپ نے اہل مدینہ سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر آپ مدینہ سے باہر جا کر لڑیں گے تو مدینہ والے آپ کا ساتھ دینے پر مجبور نہ ہوں گے۔بدر کی لڑائی میں آپ نے انصار اور مہاجرین سے لڑنے کے بارہ میں مشورہ فرمایا۔مہاجرین بار بار آگے بڑھ کر مقابلہ کرنے پر زور دیتے تھے لیکن حضور ان کی بات سن کر پھر فرما دیتے کہ اے لوگو مشورہ دو۔جس پر ایک انصاری ( سعد بن معاذ) نے کہا کیا حضور کی مراد ہم سے ہے ؟ حضور نے فرمایا ہاں۔اس نے کہا کہ بیشک ہم نے حضور سے معاہدہ کیا تھا کہ اگر باہر جا کر لڑنے کا موقع ہو گا تو ہم حضور کا ساتھ دینے پر مجبور نہ ہوں گے لیکن وہ وقت اور تھا جاکر جبکہ ہم نے دیکھ لیا ، اب ” جبکہ ہم نے دیکھ لیا کہ آپ خدا کے رسول برحق ہیں تو اب اس مشورہ کی کیا ضرورت ہے۔اگر حضور ہمیں حکم دیں تو ہم اپنے گھوڑے سمندر میں ڈال دیں گے۔ہم اصحاب موسیٰ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ تو اور تیر ارب جا کر لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں۔بلکہ ہم حضور کے دائیں بائیں، آگے اور پیچھے لڑیں گے اور دشمن آپ تک ہر گز نہ پہنچ سکے گا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روند تا ہوا نہ گزرنے۔“ آپ فرماتے ہیں کہ ”یہ مخلصین بھی میرے نزدیک ان مُعَقِّبَات میں سے تھے۔“ یعنی ان محافظوں میں سے تھے ”جو خدا تعالیٰ نے حضور کی حفاظت کے لیے مقرر فرما دیے تھے۔ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں آنحضرت صلی اللی علم کی معیت میں تیرہ جنگوں میں شریک ہوا ہوں مگر میرے دل میں بارہا یہ خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں بجائے ان لڑائیوں میں حصہ لینے کے اس فقرہ کا کہنے والا ہو تا جو سعد بن معاذ کے منہ سے نکلا تھا۔1165 یعنی کہ اپنے عہد وفا کا فقرہ۔جنگ بدر کے موقعے پر حضرت سعد بن معاذ کے اخلاص کا ذکر کرتے ہوئے سیرت خاتم النبیین میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے تحریر فرمایا ہے کہ ”جس جگہ اسلامی لشکر نے ڈیرہ ڈالا تھا وہ کوئی ایسی اچھی جگہ نہ تھی۔جنگی لحاظ سے۔” اس پر حباب بن منذر نے آپ سے دریافت کیا کہ آیا خدائی الہام کے ماتحت آپ نے یہ جگہ پسند کی ہے یا محض فوجی تدبیر کے طور پر اسے اختیار کیا ہے ؟