اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 498 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 498

صحاب بدر جلد 4 498 کافی نقصان ہوا تھا۔حضرت سعد بن عُبید شکست کھا کر واپس آئے۔پیچھے ہٹ گئے تھے تو حضرت عمرؓ نے حضرت سعد بن عبید سے فرمایا کہ ملک شامل میں جہاد سے دجیسی ہے؟ سوال پوچھا۔وہاں مسلمانوں سے شدید خونریزی کی گئی ہے۔مسلمانوں کو بڑا نقصان پہنچایا گیا ہے۔اگر تمہیں شوق ہے تو پھر وہاں چلے جاؤ اور دشمن کی اس خونریزی کی وجہ سے جو نقصان پہنچا ہے اس سے دشمن ان پر دلیر ہو گئے ہیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو فرمایا کہ شاید آپ اپنے اوپر لگی ہوئی شکست کی بدنامی کا داغ دھو سکیں کیونکہ یہاں یعنی جنگ جسر سے واپس آئے تو مسلمانوں کو نقصان ہوا تھا تو حضرت عمرؓ نے آپ کو کہا کہ اگر اس بدنامی کا، شکست کا داغ دھونا ہے تو وہاں شام کی طرف بھی جنگ ہو رہی ہے۔حضرت سعد نے عرض کیا نہیں۔میں سوائے اس زمین کے اور کہیں نہیں جاؤں گا جہاں سے میں بھا گاہوں یا نا کام واپس آیا ہوں اور ان دشمنوں کے مقابل پر ہی نکلوں گا جنہوں نے میرے ساتھ جو کرنا تھا کیا۔یعنی مراد یہ تھی کہ لڑائی میں وہ غالب آگئے۔چنانچہ حضرت سعد بن عبید قادسیہ آئے اور وہاں لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔عبد الرحمن بن ابولیلی روایت کرتے ہیں کہ حضرت حضرت سعد بن عبید نے لوگوں سے وعظ کیا اور کہا کہ کل ہم دشمن کا مقابلہ کریں گے اور کل ہم شہید ہوں گے۔لہذا تم لوگ نہ ہمارے بدن سے خون دھونا اور نہ سوائے ان کپڑوں کے جو ہمارے بدن پر ہیں کوئی اور کفن دینا۔1151 جنگ جسر جنگ جسر کی کچھ تفصیل ایک گزشتہ خطبہ میں بھی میں نے بیان کی تھی۔اس حوالے سے کچھ اور تھوڑا بیان کر دیتا ہوں۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ جنگ جسر 13 ہجری میں دریائے فرات کے کنارے مسلمانوں اور ایرانیوں کے درمیان لڑی گئی تھی اور مسلمانوں کی طرف سے لشکر کے سپہ سالار حضرت ابو عبید ثقفی تھے جبکہ ایرانیوں کی طرف سے بَ بمَن جَادُویہ سپہ سالار تھا۔مسلمان فوج کی تعد اد دس ہزار تھی جبکہ ایرانیوں کی فوج میں تیس ہزار فوجی اور تین سو ہا تھی تھے۔دریائے فرات کے درمیان حائل ہونے کی وجہ سے یعنی بیچ میں دریائے فرات آگیا تھا اس وجہ سے دونوں گروہ کچھ عرصہ تک لڑائی سے رکے رہے یہاں تک کہ فریقین کی باہمی رضامندی سے فرات پر جسر یعنی ایک پل تیار کیا گیا۔اسی پل کی وجہ سے اس کو جنگ جسر کہا جاتا ہے۔جب پل تیار ہو گیا تو بہمن جَادُوَیہ نے حضرت ابوعبید کو کہلا بھیجا کہ تم دریا عبور کر کے ہماری طرف آؤ گے یا ہمیں عبور کرنے کی اجازت دو گے۔حضرت ابوعبید کی رائے تھی کہ مسلمانوں کی فوج دریا عبور کر کے مخالف گروہ سے جنگ کرے جبکہ لشکر کے سردار جن میں حضرت سلیط بھی تھے اس رائے کے خلاف تھے لیکن حضرت ابوعبید نے دریائے فرات کو عبور کر کے اہل فارس کے لشکر پر حملہ کر دیا۔تھوڑی دیر تک لڑائی ایسے ہی چلتی رہی۔کچھ دیر بعد بهمن جادویہ نے اپنی فوج کو منتشر ہوتے دیکھا۔دیکھا کہ ایرانیوں کی فوج پیچھے ہٹ رہی ہے تو اس نے ہاتھیوں کو آگے بڑھنے کا حکم دیا۔ہاتھیوں کے آگے بڑھنے سے مسلمانوں کی صفیں بے ترتیب رض