اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 496 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 496

صحاب بدر جلد 4 496 لینا اور صحابہ سے مشورہ لینا ایک بات ہے۔صحابہ کا مقام بہر حال بلند ہے۔فرمایا بلکہ اس کا مطلب صرف یہ ہوتا ہے کہ میں نے طب میں مشورہ لیا۔ایک خاص فیلڈ، ایک خاص شعبہ ہے اس میں مشورہ لیا یا کسی خاص بات کے لیے مشورہ لیا۔پس فرض کرو کہ سعد بن عبادہ سے کسی دنیوی امر میں جس میں وہ ماہر فن ہوں مشورہ لینا ثابت بھی ہو تو یہ نہیں کہا جا سکتا، تب بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے۔مگر ان سے متعلق تو کوئی صحیح روایت ایسی نہیں جس میں ذکر آتا ہو کہ وہ مشوروں میں شامل ہوتے تھے بلکہ مجموعی طور پر روایات یہی بیان کرتی ہیں کہ وہ مدینہ چھوڑ کر شام کی طرف چلے گئے تھے اور صحابہ پر یہ اثر تھا کہ وہ اسلامی مرکز سے منقطع ہو چکے ہیں۔اسی لیے ان کی وفات پر صحابہ کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کے نزدیک ان کی موت کو بھی اچھے رنگ میں نہیں سمجھا گیا کیونکہ یوں تو ہر ایک کو فرشتہ ہی مارا کرتا ہے مگر ان کی وفات پر خاص طور پر کہنا کہ انہیں فرشتوں نے یا جنوں نے مار دیا، بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک وفات ایسے رنگ میں ہوئی کہ گویا خدا تعالیٰ نے انہیں اپنے خاص فعل سے اٹھا لیا کہ وہ شقاق کا موجب نہ ہوں یعنی بہر حال بدری صحابہ میں سے تھے تو کسی قسم کے نفاق یا کوئی اور مخالفت یا اور کوئی ایسی بات کا موجب نہ ہوں جس سے پھر ان کا وہ مقام گرتا ہو لیکن بہر حال وہ علیحدہ ہو گئے۔یہ بیان کرنے کے بعد آپؐ فرماتے ہیں کہ یہ تمام روایات بتلاتی ہیں کہ ان کی وہ عزت صحابہ کے دلوں میں نہیں رہی تھی جو ان کے اُس مقام کے لحاظ سے ہونی چاہیے تھے جو کبھی انہوں نے حاصل کیا تھا۔اور یہ کہ صحابہ ان سے خوش نہیں تھے ورنہ وہ کیونکر کہہ سکتے تھے کہ فرشتوں یا جنوں نے انہیں مار دیا بلکہ ان الفاظ سے بھی زیادہ سخت الفاظ ان کی وفات پر کہے گئے ہیں جنہیں میں اپنے منہ سے کہنا نہیں چاہتا۔پس یہ خیال کہ خلافت کی بیعت کے بغیر بھی انسان اسلامی نظام میں اپنے مقام کو قائم رکھ سکتا ہے واقعات اور اسلامی تعلیم کے بالکل خلاف ہے اور جو شخص اس قسم کے خیالات اپنے دل میں رکھتا ہے میں نہیں سمجھ سکتا کہ وہ بیعت کا مفہوم ذرہ بھی سمجھتا ہو۔1149 حضرت سعد کی وفات حضرت سعد بن عبادہ کی وفات حوران ملک شام میں ہوئی۔حضرت عمر کے خلیفہ منتخب ہونے کے اڑھائی سال کے بعد ہوئی تھی۔علامہ ابن حجر عسقلانی کے مطابق ان کی وفات شام کے شہر بصری میں ہوئی تھی۔یہ شام کا پہلا شہر تھا جو مسلمانوں نے فتح کیا تھا۔مدینہ میں ان کی موت کا پتا نہیں لگا، پھر کس طرح علم ہوا ؟ یہ روایت آتی ہے یہاں مدینہ میں اس کا علم اس وقت ہوا کہ جب بِثْرِ مَدَبَّهُ بابترِ سَكَن کے کنویں تھے ان میں دو پہر کی سخت گرمی میں چھلانگیں لگانے والے لڑکوں میں سے ایک نے کنویں میں سے کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ قد قَتَلْنَا سَيْدَ الْخَزْرَجِ سَعْدَ بْنَ عُبَادَه وَرَمَيْنَاهُ بِسَهْمَيْنِ فَلَمْ تُخْطِ فُؤَادَه