اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 491
اصحاب بدر جلد 4 491 ہوئے جس سے ائمہ سلف نے استدلال کیا ہے کہ قتل کے معنی یہاں جسمانی قتل نہیں بلکہ قطع تعلق کے ہیں اور عربی زبان میں قتل کے کئی معنی ہوتے ہیں۔اردو میں بے شک قتل کے معنی جسمانی قتل کے ہی ہوتے ہیں لیکن عربی زبان میں جب قتل کا لفظ استعمال کیا جائے تو وہ کئی معنوں میں استعمال ہو تا ہے جن میں سے ایک معنی قطع تعلق کے ہیں اور لغت والوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت عمر کی مراد قتل سے قتل نہیں بلکہ قطع تعلق تھا، ان کو چھوڑ دیا جائے، ان سے بات چیت بند کر دی جائے ورنہ اگر قتل سے مراد ظاہری طور پر قتل کر دینا تھا تو حضرت عمرؓ نے جو بہت جو شیلے تھے انہیں خود کیوں نہ قتل کر دیا یا صحابہ میں سے کسی نے کیوں انہیں قتل نہ کیا مگر جبکہ حضرت عمرؓ نے نہ صرف انہیں اس وقت قتل نہ کیا بلکہ اپنی خلافت کے زمانے میں بھی قتل نہ کیا اور بعض کے نزدیک تو وہ حضرت عمر کی خلافت کے بعد بھی زندہ رہے اور ر کسی صحابی نے ان پر ہاتھ نہ اٹھایا تو بہر حال اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل سے مراد قطع تعلق ہی تھا۔ظاہری طور پر قتل کرنا نہیں تھا اور گو وہ صحابی عام صحابہ سے الگ رہے۔حضرت سعدان سے الگ ہو گئے لیکن کسی نے اُن پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔پس حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میں نے مثال دی تھی کہ رویا میں بھی اگر کسی کے متعلق قتل ہو نا دیکھا جائے تو اس کی تعبیر قطع تعلق اور بائیکاٹ بھی ہو سکتی ہے۔اپنے ایک خطبہ کا ذکر کر رہے ہیں۔بہر حال آگے فرماتے ہیں کہ مجھ سے ایک دوست نے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے اس خطبے کے بعد کہا کہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی لیکن مشوروں میں انہیں ضرور شامل کیا جاتا تھا یعنی بیعت نہ ہونے کے باوجو د بھی حضرت ابو بکر نہیں مشوروں میں شامل کرتے تھے۔حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں اس شخص نے جو بات کی ہے حضرت سعد کے متعلق اس کے دو معنی ہو سکتے ہیں کہ یا تو میرے مفہوم کی تردید ہے یعنی حضرت مصلح موعودؓ لغت کی قتل کی جو تعریف بیان کر رہے ہیں یا تو وہ میرے مفہوم کی تردید کر رہا ہے یا یہ کہ یعنی کہ ایسا کوئی واقعہ نہیں ہو ایا یہ کہ خلافت کی بیعت نہ کرنا کوئی اتنا بڑا جرم نہیں ہے۔دوسری بات یہ شخص یہی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ اگر خلافت کی بیعت نہ کی جائے تو کوئی بڑا جرم نہیں ہے کیونکہ سعد نے گو بیعت نہیں کی تھی مگر مشوروں میں شامل ہوا کرتے تھے۔آپؐ فرماتے ہیں کسی شاعر نے کہا ہے کہ تَا مَرْد سُخَن نَكُفْتَه بَاشَد عَيْب وَهُشْرَشُ نَهُفْتَه بَاشَد انسان کے عیب و ہنر اس کی بات کرنے تک پوشیدہ ہوتے ہیں۔جب انسان بات کر دیتا ہے تو کئی دفعہ اپنے عیوب ظاہر کر دیتا ہے۔خاموش ہو تو عیب چھپے رہتے ہیں۔بعض دفعہ بیوقوفوں والی باتیں کر دیتا ہے تو عیب ظاہر ہو جاتے ہیں۔آپ کہتے ہیں کہ اس شخص نے جس نے یہ تعریف کی تھی کہ حضرت عد مشورے میں شامل ہوتے تھے یا حضرت مصلح موعودؓ کے خطبہ پہ تبصرہ کیا تھا، اس شخص کا بات کرنا بھی یہی معنی رکھتا ہے کہ یا تو وہ خلافت کی بیعت کی تخفیف کرنا چاہتا ہے یا اپنے علم کا اظہار کرنا چاہتا ہے لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔علم کے اظہار کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ بات اتنی ہی غلط ہے کہ ہر سعد