اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 489
489 اصحاب بدر جلد 4 وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک میں اپنے ترکش میں موجو د سارے تیر لوگوں کو نہ مار لوں یعنی بقول ان کے انکار کیا، اور وہ لوگ جو میری قوم و قبیلہ میں سے میرے تابع ہیں ان کے ہمراہ تم لوگوں سے قتال نہ کرلوں۔حضرت ابو بکر کو جب یہ خبر موصول ہوئی تو بشیر بن سعد نے کہا کہ اے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! انہوں نے انکار کیا ہے اور اصرار کیا یعنی انکار پر اصرار کر رہے ہیں۔وہ آپ کی بیعت کرنے والے نہیں خواہ انہیں قتل کر دیا جائے۔اور وہ ہر گز قتل نہیں کیے جاسکتے جب تک کہ ان کے ساتھ ان کی اولاد اور ان کے قبیلے کو قتل نہ کیا جائے۔اور یہ لوگ ہر گز قتل نہیں کیے جاسکتے جب تک کہ قبیلہ خزرج کو قتل نہ کیا جائے۔اور خزرج کو ہر گز قتل نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اوس کو قتل نہ کیا جائے۔لہذا آپے ان کی طرف پیش قدمی نہ کریں جبکہ اب لوگوں کے لیے معاملہ سیدھا ہو چکا ہے۔وہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا یعنی ان کی قوم میں سے اکثریت نے بیعت کرلی ہے۔اگر انکار کیا ہے تو کوئی بات نہیں کیونکہ وہ ایک ایسا تنہا شخص ہے جسے چھوڑ دیا گیا ہے۔حضرت ابو بکر نے حضرت بشیر کی نصیحت کو قبول کرتے ہوئے حضرت سعد کو چھوڑ دیا۔پھر جب حضرت عمر خلیفہ بنے تو ایک روز مدینہ کے راستے پر سعد سے ملے تو آپ نے فرمایا۔کہو اے سعد۔سعد نے کہا کہو اے عمر یہ آپس میں گفتگو ہو رہی ہے۔حضرت عمر نے فرمایا کہ تم ویسے ہی ہو جیسے پہلے تھے ؟ سعد نے کہا ہاں میں ویسا ہی ہوں۔خلافت آپ کو مل گئی ہے۔ٹھیک ہے کہ خلافت تو مل گئی ہے آپ کو۔بہت سارے لوگوں نے بیعت بھی کر لی ہے لیکن میں نے ابھی تک نہیں کی۔پھر انہوں نے کہا کہ بخدا آپ کا ساتھی یعنی حضرت ابو بکر ہمیں آپ کی نسبت زیادہ محبوب تھا۔یہ حضرت عمرؓ کو حضرت سعد نے کہا کہ حضرت ابو بکر ہمیں آپ کی نسبت زیادہ محبوب تھے۔پھر حضرت سعد نے کہا کہ بخدا میں نے اس حالت میں صبح کی ہے کہ میں آپ کی ہمسائیگی کو پسند نہیں کرتا۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ جو اپنے پڑوسی کی مصاحبت کو نا پسند کرتا ہے تو وہ پھر اُس کے پاس سے منتقل ہو جائے۔حضرت سعد نے کہا میں یہ بھولنے والا نہیں یعنی میں یہ کروں گا۔میں ایسی ہمسائیگی کی طرف منتقل ہونے والا ہوں جو اُن کے خیال میں آپ سے بہتر ہے۔کچھ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ حضرت سعد نے حضرت عمر کی خلافت کے آغاز میں ملک شام کی طرف ہجرت کی۔طبقات الکبری کا یہ حوالہ ہے۔1146 حضرت سعد کے متعلق یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے حضرت ابو بکر کی بیعت کر لی تھی۔چنانچہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ وَاتَّبَعَ الْقَوْمُ عَلَى الْبَيْعَةِ، وَبَايَعَ سَعْدٌ که ساری قوم نے باری باری حضرت ابو بکر کی بیعت کی اور حضرت سعد نے بھی بیعت کی۔یہ تاریخ طبری کا حوالہ ہے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے جو تفصیل بیان فرمائی ہے اس میں بہت سے پہلو بیان ہو جاتے ہیں۔خلافت کی بیعت بھی کیوں ضروری ہے، خلافت کا مقام کیا ہے اور حضرت سعد نے جو کچھ کیا اس کی کیا حیثیت ہے؟ 1147