اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 34 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 34

تاب بدر جلد 4 34 تھا۔آپ بڑے دراز قد اور خوبصورت چہرے کے مالک تھے۔ابتدائی ایمان لانے والے آنحضرت صلیم کے دارِ ارقم میں داخل ہونے سے قبل اسلام میں شامل ہو چکے تھے۔93 ابتدائی ایمان لانے والوں میں سے تھے۔اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ: ابو حذيفه بن عُتبہ تھے جو بنی امیہ میں سے تھے۔اُن کے باپ کا نام عُتبہ بن ربیعہ تھا جو سرداران قریش میں سے تھا۔ابو حذیفه جنگ یمامہ میں شہید ہوئے جو حضرت ابو بکر کے زمانہ خلافت میں مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہوئی تھی۔ہجرت حبشہ میں شامل 94 حضرت ابوحذیفہ حبشہ کی طرف دونوں ہجرتوں میں شامل ہوئے تھے اور آپ کی بیوی حضرت سهله بنت سهيل نے بھی آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔15 ہجرت حبشہ کس طرح ہوئی اور کیوں ہوئی 95 ہجرت حبشہ کے بارے میں پہلے بھی صحابہ کے ذکر میں ذکر ہو چکا ہے کہ کس طرح ہوئی اور کیوں ہوئی ؟ یہاں بھی مختصر ذکر کر دیتا ہوں۔مختلف تاریخی کتب سے اور حدیثوں سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو اخذ کیا ہے اس کو مزید مختصر کر کے یا اس میں سے چند باتیں لے کے بیان کروں گا۔آپ لکھتے ہیں کہ : جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی اور قریش اپنی ایذا رسانی میں ترقی کرتے گئے تو آنحضرت صلی علیم نے مسلمانوں سے فرمایا کہ وہ حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں اور فرمایا کہ حبشہ کا بادشاہ عادل اور انصاف پسند ہے اس کی حکومت میں کسی پر ظلم نہیں ہو تا۔اس زمانے میں حبشہ ایک مضبوط عیسائی حکومت تھی اور وہاں کا بادشاہ نجاشی کہلاتا تھا۔حبشہ کے ساتھ عرب کے تجارتی تعلقات تھے۔جب یہ ہجرت کر کے گئے ہیں تو اس وقت کے نجاشی بادشاہ کا جو اپنا نام تھاوہ اصحبَہ تھا جو ایک عادل، بیدار مغز اور مضبوط بادشاہ تھا۔بہر حال جب مسلمانوں کی تکلیف انتہا کو پہنچ گئی تو آنحضرت صلی ا ہم نے ان سے ارشاد فرمایا کہ جن جن سے ممکن ہو حبشہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔چنانچہ آنحضرت صلی للی علم کے فرمانے پر رجب پانچ نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتوں نے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان میں سے زیادہ معروف کے نام یہ ہیں: حضرت عثمان بن عفان اور ان کی زوجہ رقیہ بنت رسول صلی الم ، عبد الرحمن بن عوف ، زبیر بن العوام ، ابوحذيفه بن عُتبہ۔جن کا ذکر ہو رہا ہے یہ بھی اس پہلے گروپ میں تھے۔عثمان بن مظعون، مُصْعَب بن عُمیر ، ابو سلمہ بن عبد الاسد اور ان کی زوجہ اُمِ سلمہ۔حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے لکھا ہے کہ یہ ایک عجیب بات ہے کہ ان ابتدائی مہاجرین میں