اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 483
اصحاب بدر جلد 4 483 قوم کی تالیف قلب کے لیے دیا ہے تاکہ وہ اسلام قبول کر لیں اور میں نے تمہیں تمہارے اسلام کے سپر د کر دیا ہے۔ان کی تالیف قلب کی ہے تاکہ اسلام قبول کر لیں اور مضبوط ہوں اور تمہیں تمہارے اسلام کے سپر د کر دیا ہے۔اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات پر خوش نہیں کہ لوگ بھیڑ بکریاں اور اونٹ لے کر جائیں اور تم رسول اللہ کو لے کر اپنے گھروں میں لوٹو، صلی اللہ علیہ وسلم۔پھر آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد علی ایم کی جان ہے اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں انصار میں سے ایک شخص ہو تا۔اور اگر لوگ ایک وادی میں چل رہے ہوں اور انصار دوسری وادی میں چل رہے ہوں تو میں انصار کی وادی کو اختیار کروں گا۔اے اللہ ! انصار پر رحم فرما اور انصار کے بیٹوں پر اور انصار کے بیٹوں کے بیٹوں پر۔راوی کہتے ہیں اس پر وہ سب انصار رونے لگے جو وہاں موجود تھے حتی کہ ان کی داڑھیاں ان کے آنسوؤں سے تر ہو گئیں اور وہ کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تم پر تقسیم اور حصے کے لحاظ سے راضی ہیں یعنی جو بھی آپ نے تقسیم کی ہے اس پر راضی ہیں اور آپ ہمارے لیے کافی ہیں۔پھر رسول اللہ صلی علیہ کو واپس تشریف لے گئے اور لوگ بھی منتشر ہو گئے۔1131 حجۃ الوداع اور حضرت سعد م کا اخلاص و محبت حجۃ الوداع کے لیے مدینہ سے سفر کر کے جب نبی کریم صلی للی کم مقام حج پر پہنچے تو وہاں آپ کی سواری گم ہو گئی۔آنحضرت صلی یی کم اور حضرت ابو بکر کی سواری ایک ہی تھی اور وہ حضرت ابو بکڑ کے غلام کے پاس تھی جس سے رات کے وقت وہ گم ہو گئی۔حضرت صفوان بن معقل قافلہ میں سب سے پیچھے تھے۔وہ اپنے ہمراہ اس اونٹنی کو لے آئے اور سارا سامان بھی اس پہ موجود تھا۔وہ اونٹنی جو گم گئی تھی اس کو لے آئے اور وہ سامان بھی اس پہ موجود تھا۔حضرت سعد بن عبادہ نے جب یہ بات سنی تو اپنے بیٹے قیس کے ہمراہ آئے۔ان دونوں کے ساتھ ایک اونٹ تھا جس پر زادِ راہ تھا۔سارا سامان سفر کا لد ا ہوا تھا۔وہ رسول اللہ صلی علیکم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ اس وقت اپنے گھر کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے۔تب اللہ تعالی نے آپ کی سامان والی سواری واپس لوٹا دی تھی یعنی اس وقت تک آپ کی وہ اونٹنی مل چکی تھی جو گئی تھی۔جب سعد آئے ہیں تو حضرت سعد نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! ہمیں معلوم ہوا ہے کہ آپ کی سامان والی سواری گم ہو گئی ہے۔یہ ہماری سواری اس کے بدلے میں ہے۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا اللہ تعالیٰ وہ سواری ہمارے پاس لے آیا ہے۔یعنی وہ جو گئی تھی وہ مل گئی ہے۔تم دونوں اپنی سواری واپس لے جاؤ۔اللہ تم دونوں میں برکت ڈالے۔1132 حضرت اسامہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ملی علی یم کی بیٹی نے آپ کو کہلا بھیجا کہ میرا بچہ حالتِ