اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 480
تاب بدر جلد 4 1129 480 درست نہیں کیا بلکہ یہ وہ دن ہے جس میں اللہ کعبہ کی عظمت قائم کرے گا اور کعبہ پر غلاف چڑھایا جائے گا۔کوئی جنگ ونگ نہیں ہو گی۔اس واقعے کو حضرت مصلح موعودؓ نے ذرا تھوڑی سی تفصیل سے بیان کیا ہے۔وہ اس طرح ہے کہ لشکر مکے کی طرف بڑھا تو رسول کریم صلی علیم نے حضرت عباس کو حکم دیا کہ کسی سڑک کے کونے پر ابو سفیان اور اس کے ساتھیوں کو لے کر کھڑے ہو جاؤ تا کہ وہ اسلامی لشکر اور اس کی فدائیت کو دیکھ سکیں۔حضرت عباس نے ایسا ہی کیا۔ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے سامنے سے یکے بعد دیگرے عرب کے قبائل گزرنے شروع ہوئے جن کی امداد پر مکہ بھروسا کر رہا تھا یعنی مکہ والے سمجھتے تھے یہ مدد کریں گے اور وہ سب آنحضرت صلی علی ایم کے ساتھ تھے ، مگر آج وہ قبائل کفر کا جھنڈا نہیں لہرا رہے تھے ، آج وہ اسلام کا جھنڈ الہرا رہے تھے اور ان کی زبان پر خدائے قادر کی توحید کا اعلان تھا۔وہ محمد رسول اللہ صلی الی یکم کی جان لینے کے لیے آگے نہیں بڑھ رہے تھے جیسا کہ مکہ والے امید کرتے تھے بلکہ وہ محمد رسول اللہ صلی الی یکم کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہانے کے لیے تیار تھے اور ان کی انتہائی خواہش یہی تھی کہ خدائے واحد کی توحید اور اس کی تبلیغ کو دنیا میں قائم کر دیں۔لشکر کے بعد لشکر گزر رہا تھا کہ اتنے میں آشجع قبیلے کا لشکر گزرا۔اسلام کی محبت اور اس کے لیے قربان ہونے کا جوش ان کے چہروں سے عیاں تھا اور ان کے نعروں سے ظاہر تھا۔ابوسفیان نے کہا عباس ! یہ کون ہیں۔عباس نے کہا یہ اسجع قبیلہ ہے۔ابوسفیان نے حیرت سے عباس کا منہ دیکھا اور کہا سارے عرب میں ان سے زیادہ محمد رسول اللہ صلی علیم کا کوئی دشمن نہیں تھا۔عباس نے کہا کہ یہ خدا کا فضل ہے کہ جب اس نے چاہا ان کے دلوں میں اسلام کی محبت داخل ہو گئی۔سب سے آخر میں رسول اللہ صلی علی کی مہاجرین و انصار کا لشکر لیے ہوئے گزرے۔یہ لوگ دو ہزار کی تعداد میں تھے اور سر سے پاؤں تک زرہ بکتروں میں چھپے ہوئے تھے۔حضرت عمران کی صفوں کو درست کرتے چلے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے کہ قدموں کو سنبھال کر چلو تا کہ صفوں کا فاصلہ ٹھیک رہے۔ان پرانے فداکارانِ اسلام کا جوش اور ان کا عزم اور ان کا ولولہ ان کے چہروں سے ٹپکا پڑتا تھا۔ابوسفیان نے ان کو دیکھا تو اس کا دل دہل گیا۔اس نے پوچھا عباس! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے ، عباس نے کہا کہ رسول الله صلى ال نیم انصار و مہاجرین کے لشکر میں جارہے ہیں۔ابو سفیان نے جواب دیا اس لشکر کا مقابلہ کرنے کی دنیا میں کس کو طاقت ہے۔پھر وہ حضرت عباس سے مخاطب ہوا اور کہا تمہارے بھائی کا بیٹا آج دنیا میں سب سے بڑا بادشاہ ہو گیا ہے۔عباس نے کہا اب بھی تیرے دل کی آنکھیں نہیں کھلیں۔یہ بادشاہت نہیں ہے ، یہ تو نبوت ہے۔ابو سفیان نے کہا ہاں ہاں اچھا پھر نبوت ہی سہی۔جس وقت یہ لشکر ابوسفیان کے سامنے سے گزر رہا تھا تو انصار کے کمانڈر سعد بن عبادہ نے ابو سفیان کو دیکھ کر کہا۔آج خد اتعالیٰ نے ہمارے لیے مکہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔آج قریشی قوم ذلیل کر دی جائے گی۔جب رسول اللہ صلی علی یکم ابوسفیان کے پاس سے گزرے تو اس نے بلند آواز سے کہا کہ یارسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی قوم کے قتل کی اجازت دے دی ہے۔ابھی ابھی انصار کے سردار سعد اور اس کے ساتھی ایسا کہہ رہے تھے۔انہوں نے بلند آواز سے یہ کہا ہے کہ آج لڑائی ہو گی اور مکہ کی حرمت آج ہم کو لڑائی سے باز نہیں