اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 479
اصحاب بدر جلد 4 479 عبادہ نے عرض کیا کہ یار سول اللہ ! یہ کیا! آپ نے فرمایا۔هذَا شَوقُ الْحَبِيْبِ إِلى حَبِيْبِہ یہ ایک محبوب کی اپنے محبوب سے محبت ہے۔128 فتح مکہ اور حضرت سعد بن عبادہ سے جھنڈ اواپس لیا جانا صحیح بخاری کی ایک اور روایت ہے۔یہ پہلی صحیح بخاری کی نہیں تھی۔یہ واقعہ اور ہے اور صحیح بخاری کی روایت سے ہے کہ ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی الیم نے فتح مکہ کے سال کوچ فرمایا تو قریش کو یہ خبر پہنچی۔تب ابو سفیان بن حرب، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقاء رسول اللہ صلی ال کی جستجو میں نکلے۔وہ چل پڑے یہاں تک کہ مَر الظَّهْرَانَ مقام پر پہنچے۔مر الظهران مکے کی جانب ایک مقام ہے جس میں بہت سے چشمے اور کھجور کے باغات ہیں۔یہ مکے سے پانچ میل کے فاصلے پر واقع ہے۔بہر حال جب وہاں پہنچے تو انہوں نے کیا دیکھا کہ بے شمار آگیں روشن ہیں جیسے حج کے موقع پر عرفات کے مقام کے آگے ہوتی ہیں۔ابو سفیان نے کہا یہ کیسی ہیں ؟ یوں معلوم ہوتا ہے کہ عرفات کی آگئیں ہیں۔بدیل بن ورقاء نے کہا بنو عمرو کی آگئیں معلوم ہوتی ہیں یعنی خزاعہ قبیلہ کی۔ابو سفیان نے کہا عمرو کا قبیلہ اس تعداد سے بہت کم ہے۔اتنے میں ان کو رسول اللہ صلی ایم کے پہر بے داروں میں سے کچھ لوگوں نے دیکھ لیا اور ان تینوں کو پکڑ کر گرفتار کر لیا اور پھر ان کو رسول اللہ صلی علیم کے پاس لے کے آئے۔ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔جب آنحضرت صلی علیہ ہم چلے یعنی مکے کی طرف تو آپ نے حضرت عباس سے فرمایا۔ابوسفیان کو پہاڑ کے دڑے پر روکے رکھنا تا کہ وہ مسلمانوں کو دیکھ لے۔چنانچہ حضرت عباس نے اسے روکے رکھا۔مختلف قبائل نبی کریم صلی علیکم کے ساتھ گزرنے لگے۔لشکر کا ایک ایک دستہ ابوسفیان کے سامنے سے گزرتا گیا۔جب ایک گروہ گزرا تو ابوسفیان نے کہا عباس ! یہ کون لوگ ہیں ؟ انہوں نے کہا یہ قبیلہ غفار کے لوگ ہیں۔ابوسفیان نے کہا مجھے غفار سے کیا سروکار۔پھر جہینہ والے گزرے۔ابوسفیان نے ویسے ہی کہا۔پھر سعد بن ھذیم والے گزرے۔پھر اس نے ویسے ہی کہا۔پھر سلیم والے گزرے۔پھر اس نے ویسے ہی کہا۔یہاں تک کہ آخر میں ایک ایسا لشکر آیا کہ ویسا اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ابوسفیان نے پوچھا یہ کون ہیں ؟ حضرت عباس نے کہا انصار ہیں اور ان کے سر دار سعد بن عبادہ ہیں جن کے پاس جھنڈا ہے۔حضرت سعد بن عبادہ نے پکار کر کہا ابو سفیان ! آج کا روز گھمسان کی لڑائی کا روز ہے۔آج کعبہ میں لڑائی حلال ہو گی۔ابوسفیان نے یہ سن کر کہا عباس ! بر بادی کا یہ دن کیا خوب ہو گا اگر مقابلے کا موقع مل جاتا۔یعنی کہ میں دوسری طرف ہو تا یا کہ اس طرف ہونے کی وجہ سے مجھے بھی موقع ملتا کیونکہ اسلام قبول کر لیا تھا۔پھر ایک اور دستہ فوج کا آیا اور وہ تمام لشکروں سے چھوٹا تھا۔ان میں رسول اللہ صلی للی کم تھے اور آپ کے ساتھی مہاجرین تھے اور نبی صلی علیکم کا جھنڈا حضرت زبیر بن عوام کے پاس تھا۔جب رسول اللہ صلی الی یکم ابو سفیان کے پاس سے گزرے تو ابوسفیان نے کہا کیا آپ کو علم نہیں کہ سعد بن عبادہؓ نے کیا کہا ہے ؟ آپ نے پوچھا کیا کہا ہے ؟ اس نے کہا کہ ایسا کہا ہے۔جو بھی انہوں نے الفاظ استعمال کیے تھے (وہ بتائے)۔آپ نے فرمایا سعد نے رض