اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 462
اصحاب بدر جلد 4 462 ڈال کر کہا۔لو گو کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد و پیمان کے کیا معنے ہیں ؟ اس کا یہ مطلب ہے کہ اب تمہیں ہر اسود و احمر کے مقابلہ کے لیے تیار ہونا چاہیے یعنی ہر قوم کے لوگ جو ہیں تمہارے خلاف ہو جائیں گے ان کے مقابلے کے لیے تیار ہونا چاہیے اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔لوگوں نے کہا کہ ہاں ہم جانتے ہیں مگر یار سول اللہ ! اس کے بدلہ میں ہمیں کیا ملے گا ؟ آپ صلی اللہ ہم نے فرمایا کہ تمہیں خدا کی جنت ملے گی جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا کہ ہمیں یہ سودا منظور ہے۔یارسول اللہ ! اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھا دیا اور یہ ستر جاں نثاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدہ میں آپ کے ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔موسیٰ کے نقیبوں کی طرح نقیبوں کا انتخاب جو میرے لئے عیسی کے حواریوں کی طرح جب یہ بیعت ہو چکی تو آپ نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے جو موسیٰ کی طرف سے ان کے نگران اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جواب دہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کیے گئے جنہیں آپ نے منظور فرمایا اور انہیں ایک ایک قبیلے کا نگران مقرر کر کے ان کے فرائض سمجھا دیے اور بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔جب نقیبوں کا تقرر ہو چکا تو آنحضرت صلی علیہ سلم کے چچا عباس بن عبد المطلب نے انصار سے تاکید کی کہ انہیں بڑی ہوشیاری اور احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ قریش کے جاسوس سب طرف نظر لگائے بیٹھے ہیں ایسا نہ ہو کہ اس قول و اقرار کی خبر نکل جائے اور مشکلات پیدا ہو جائیں۔ابھی غالباً وہ یہ تاکید کرہی رہے تھے کہ گھائی کے اوپر سے رات کی تاریکی میں کسی شیطان کی آواز آئی یعنی کوئی شخص چھپا تھا، جاسوسی کر رہا تھا کہ اے قریش! تمہیں بھی کچھ خبر ہے کہ یہاں (نعوذ باللہ ) مُذمّہ اور اس کے ساتھ کے مرتدین تمہارے خلاف کیا عہد و پیمان کر رہے ہیں؟ اس آواز نے سب کو چونکا دیا مگر آنحضرت صلی العلم بالکل مطمئن رہے اور فرمایا کہ اب آپ لوگ جس طرح آئے تھے اسی طرح ایک ایک دو دو ہو کر اپنی قیام گاہوں میں واپس چلے جاؤ۔عباس بن نضلہ انصاری نے کہا۔یارسول اللہ ! ہمیں کسی کا ڈر نہیں ہے۔اگر حکم ہو تو ہم آج صبح ہی ان قریش پر حملہ کر کے انہیں ان کے مظالم کا مزہ چکھا دیں۔آپ نے فرمایا نہیں نہیں مجھے ابھی تک اس کی اجازت نہیں ہے۔بس تم صرف یہ کرو کہ خاموشی کے ساتھ اپنے اپنے خیموں میں واپس چلے جاؤ۔جس پر تمام لوگ ایک ایک دو دو کر کے دبے پاؤں گھائی سے نکل گئے اور آنحضرت صلی اللی کم بھی اپنے چچا عباس کے ساتھ مکہ واپس تشریف لے آئے۔قریش کے کانوں میں چونکہ بھنک پڑ چکی تھی کہ اس طرح کوئی خفیہ اجتماع ہوا ہے۔وہ صبح ہوتے ہی اہل یثرب کے ڈیرہ میں گئے اور ان سے کہا کہ آپ کے ساتھ ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں اور ہم ہر گز نہیں چاہتے کہ ان تعلقات کو خراب کریں مگر ہم نے سنا ہے کہ گذشتہ رات محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ آپ کا کوئی خفیہ معاہدہ یا