اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 456 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 456

اصحاب بدر جلد 4 456 خاتم النبیین میں اس طرح لکھی ہے کہ حضرت سعد ایک متمول آدمی تھے۔اچھے کھاتے پیتے تھے۔اپنے قبیلہ میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ان کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی۔صرف دو لڑکیاں تھیں اور بیوی تھی۔چونکہ ابھی تک آنحضرت صلی علی کم پر ورثہ کے متعلق کوئی جدید احکام نازل نہیں ہوئے تھے اور صحابہ میں قدیم دستور عرب کے مطابق، عرب کا جو دستور تھا اس کے مطابق ورثہ تقسیم ہوتا تھا۔متوفی یعنی فوت ہونے والے کی نرینہ اولاد نہ ہونے کی صورت میں اس کے جدی اقرباء جو تھے جائیداد پر قابض ہو جاتے تھے اور بیوہ اور لڑکیاں یوں ہی خالی ہاتھ رہ جاتی تھیں۔اس لیے سعد بن ربیع کی شہادت پر ان کے بھائی نے سارے ترکے پر قبضہ کر لیا اور ان کی بیوہ اور لڑکیاں بالکل بے سہارارہ گئیں۔اس تکلیف سے پریشان ہو کر سعد کی بیوہ اپنی دونوں لڑکیوں کو ساتھ لے کر آنحضرت صلی علی ظلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور ساری سر گزشت سنا کر اپنی پریشانی کا ذکر کیا۔آنحضرت صلی الی علم کی فطرت صحیحہ کو اس درد کے قصہ نے ایک ٹھیس لگائی مگر چونکہ ابھی تک اس معاملہ میں خدا کی طرف سے آپ پر کوئی احکام نازل نہیں ہوئے تھے آپ نے فرمایا تم انتظار کرو۔پھر جو احکام خدا کی طرف سے نازل ہوں گے ان کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔چنانچہ آپ صلی لی یم نے اس بارہ میں توجہ فرمائی اور ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ آپ پر ورثہ کے معاملہ میں بعض وہ آیات نازل ہوئیں جو قرآن شریف کی سورۃ النساء میں بیان ہوئی ہیں۔اس پر آپ نے سعد کے بھائی کو بلایا اور اس سے فرمایا کہ سعد کے ترکہ میں سے دو ثلث ان کی لڑکیوں اور ایک تمن اپنی بھا وجہ کے سپر د کر دو اور جو باقی بچے وہ خود لے لو۔اس وقت سے تقسیم ورثہ کے متعلق جدید احکام کی ابتدا قائم ہو گئی جس کی رو سے بیوی اپنے صاحب اولاد خاوند کے ترکہ میں آٹھویں حصہ کی اور بے اولا د خاوند کے ترکہ میں چہارم حصہ کی اور لڑکیاں اپنے باپ کے ترکہ میں اپنے بھائی کے حصہ کی نسبت نصف حصہ کی اور اگر بھائی نہ ہو تو سارے ترکہ میں سے حالات کے اختلاف کے ساتھ دو ثلث یا نصف کی ( تین چوتھائی یا نصف کی دو تہائی یا نصف کی ) اور ماں اپنے صاحب اولاد لڑکے کے ترکہ میں چھٹے حصہ کی اور بے اولاد لڑکے کے ترکہ میں تیسرے حصہ کی حق دار قرار دی گئی اور اسی طرح دوسرے ورثاء کے حصے مقرر ہو گئے۔اور عورت کا وہ فطری حق جو اس سے چھینا جا چکا تھا اسے واپس مل گیا۔عورتوں کے تمام حقوق کی حفاظت جس تک دنیا کا کوئی مذہب اور تمدن نہیں پہنچا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے آگے ایک نوٹ لکھا ہے۔وہ لکھتے ہیں کہ اس موقع پر یہ نوٹ بھی غیر ضروری نہیں ہو گا کہ آنحضرت صلی للی کم کی تعلیم کی امتیازی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ آپ نے طبقہ نسواں کے تمام جائز اور واجبی حقوق کی پوری پوری حفاظت فرمائی ہے بلکہ حق یہ ہے کہ دنیا کی تاریخ میں آپ صلی علیہم سے پہلے یا آپ کے بعد کوئی ایسا شخص نہیں گزرا جس نے عورت کے حقوق کی ایسی حفاظت کی ہو جیسی آپ نے کی ہے۔چنانچہ ورثہ میں، بیاہ شادی میں، خاوند بیوی کے تعلقات میں، طلاق و خلع میں ، اپنی ذاتی جائیداد پیدا کرنے کے حق میں، اپنی ذاتی جائیداد کے استعمال کرنے کے حق میں، تعلیم کے حقوق میں، بچوں کی ولایت و تربیت کے حقوق میں، قومی اور ملکی معاملات میں حصہ لینے کے حق