اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 31

ب بدر جلد 4 31 تھوڑی سی مٹی ہٹاتے تو بارش ہو جاتی۔81 یہ وہاں اب بھی ایک روایت قائم ہے۔کہاں تک صحیح ہے اللہ بہتر جانتا ہے۔حضرت ابوایوب انصاری پچاس یا اکاون ہجری یا باون ہجری میں غزوہ قسطنطنیہ میں فوت ہوئے۔آخری قول اکثر لوگوں کا ہے یعنی باون ہجری کا۔82 حضرت ابو ایوب انصاری کا مزار ترکی کے شہر استنبول میں ہے۔مزار ایک چبوترے میں ہے جسے پیتل کے جالی دار دروازے سے بند کیا ہوا ہے۔ترکی کے اکثر لوگ سکون قلب کے لیے یہاں حاضر ہوتے ہیں۔اب بدری صحابہ کا یہ ذکر تو ختم ہو گیا لیکن چاروں خلفاء کا ذکر ان شاء اللہ بیان کروں گا۔پہلے بعض کا مختصر بیان ہو ا تھا۔اب تفصیلی بیان کروں گا۔اسی طرح شروع میں بعض صحابہ کا مختصر ذکر ہوا تھا اگر ان کے بارے میں کچھ اور مواد میسر آیا تو وہ بھی بیان کر دوں گا۔جب یہ سب لکھا جائے گا تو وہ ان صحابہ کی سیرت میں ان کے اس حصے میں چلا جائے گا اور وہ لوگ چند ایک ہی ہوں گے۔83 13 نام و نسب و کنیت حضرت ابو بردہ بن نیار ย حضرت ابو بزدہ بن نیار۔کنیت ان کی ابو بزدہ تھی۔ابو بُزدہ اپنی کنیت سے مشہور تھے۔ان کا نام ہانی تھا۔ایک روایت میں آپ کا نام حارث اور ایک دوسری روایت میں مالک بھی بیان ہوا ہے۔ان کا تعلق قبیلہ بنو قُضَاعَہ کے خاندان بیلی سے تھا۔حضرت ابو بردہ حضرت براء بن عازب کے ماموں تھے۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ حضرت ابو بردہ حضرت براء بن عازب کے چچا تھے۔بیعت عقبہ اور تمام غزوات میں شمولیت 84 بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہوئے۔اس کے علاوہ غزوہ بدر، احد، خندق سمیت تمام غزوات میں رسول کریم صلی ایم کے ساتھ شامل ہوئے۔فتح مکہ کے دن بنو حارثہ کا جھنڈ احضرت ابو بردہ کے پاس تھا۔4 حضرت ابو عبس اور حضرت ابو بردہ نے جب اسلام قبول کیا تو اس وقت دونوں نے قبیلہ بنو حارثہ کے بتوں کو توڑا۔85 یعنی اپنے قبیلے کے وہ جو بت تھے ، اُن کو ( توڑا تھا)۔