اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 447 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 447

اصحاب بدر جلد 4 447 دیرینہ تعلقات ہیں، پرانے تعلقات ہیں، آپ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ایسا نہ ہو کہ جب اللہ تعالیٰ آپ کو غلبہ دے تو آپ ہمیں چھوڑ کر اپنے وطن میں واپس تشریف لے آئیں اور ہم نہ ادھر کے رہیں اور نہ ادھر کے رہیں۔آپ مسلیم نے ہنس کر فرمایا کہ نہیں نہیں ایسا ہر گز نہیں ہو گا۔تمہارا خون میرا خون ہو گا۔تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔اس پر عباس بن عُبَادَہ انصاری نے اپنے ساتھیوں پر نظر ڈال کر کہا کہ لوگو! کیا تم سمجھتے ہو کہ اس عہد و پیمان کے کیا معنی ہیں؟ اس کا یہ مطلب یہ کہ تمہیں ہر اسود و احمر، ہر کالے گورے کے مقابلے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔ہر شخص کو جو آنحضرت صلی للی کم کی مخالفت کرے گا اس کا مقابلہ کرنے کے لیے تمہیں تیار ہونا پڑے گا اور ہر قربانی کے لیے آمادہ رہنا چاہیے۔لوگوں نے کہا ہاں ہم جانتے ہیں مگر یار سول اللہ ! اس کے بدلے میں ہمیں کیا ملے گا؟ پھر ان لوگوں نے آنحضرت صلی علیہ کم سے پوچھا کہ ہم تو یہ سب کچھ کریں گے ہمیں کیا ملے گا؟ ملی ایم نے فرمایا تمہیں خدا کی جنت ملے گی جو اس کے سارے انعاموں میں سے بڑا انعام ہے۔سب نے کہا ہمیں یہ سودا منظور ہے یار سول اللہ ! آپ اپنا ہاتھ آگے کریں۔آپ نے اپنا دست مبارک آگے بڑھایا اور یہ ستر جاشاروں کی جماعت ایک دفاعی معاہدے میں آپ کے ہاتھ پر بک گئی۔اس بیعت کا نام بیعت عقبہ ثانیہ ہے۔بارہ نقیبوں کا تقرر جب بیعت ہو چکی تو آپ صلی للی کم نے ان سے فرمایا کہ موسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم میں سے بارہ نقیب چنے تھے جو موسیٰ کی طرف سے ان کے نگران اور محافظ تھے۔میں بھی تم میں سے بارہ نقیب مقرر کرنا چاہتا ہوں جو تمہارے نگران اور محافظ ہوں گے اور وہ میرے لیے عیسی کے حواریوں کی طرح ہوں گے اور میرے سامنے اپنی قوم کے متعلق جوابدہ ہوں گے۔پس تم مناسب لوگوں کے نام تجویز کر کے میرے سامنے پیش کرو۔چنانچہ بارہ آدمی تجویز کیے گئے جنہیں آپ نے منظور فرمایا اور انہیں ایک ایک قبیلے کا نگران مقرر کر کے ان کے فرائض سمجھا دیے اور بعض قبائل کے لیے آپ نے دو دو نقیب مقرر فرمائے۔بہر حال ان بارہ نقیبوں کے نام یہ ہیں: اسْعَدُ بن زُرَارة - أسيد بن الْحُضَير - ابو الهَيْثَم مالك بن تَيْهَان۔سعد بن عُبادہ۔بَراء بن مَغرُور - عبد الله بن رواحه - عُبادہ بن صامت - سعد بن ربیع رافع بن مالک۔عبد اللہ بن عمر و اور سعد بن خَيْثَمَه ( جن کا ذکر چل رہا ہے۔یہ سعد بن خَیمہ بھی ان نقیبوں میں سے ایک نقیب تھے) اور مُنْذِرُ بن عمرو - 1057 نا الرس ہجرت مدینہ کے وقت قبا میں آنحضرت صلی علیہ ہم نے حضرت کلثوم بن العِلم کے گھر قیام فرمایا۔اس ضمن میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ صلی ا لم نے حضرت سعد بن خنیقمہ کے گھر قیام فرمایا اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ قیام آنحضرت صلی علیہم کا حضرت لقوم بن الھم کے گھر ہی تھا لیکن جب آپ ان کے گھر