اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 30
اصحاب بدر جلد 4 30 ابو ایوب بیمار ہو گئے۔لشکر پر یزید بن معاویہ امیر تھا۔وہ ان کے پاس ان کی عیادت کو آیا اور پوچھا کہ آپ کی کوئی ضرورت ہو تو بیان کریں۔انہوں نے کہا کہ میری ضرورت یہ ہے کہ جب میں مر جاؤں تو مجھے سوار کرنا۔پھر جہاں تک گنجائش ملے دشمن کے ملک میں لے جانا۔پھر جب گنجائش نہ پاؤ تو وہیں دفن کر دینا اور واپس آ جانا۔جب حضرت ابو ایوب کی وفات ہو گئی تو اس نے انہیں سوار کیا اور جہاں تک گنجائش ملی وہ دشمن کے ملک میں لے گیا اور انہیں دفن کیا۔پھر واپس آگیا۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابو ایوب انصاری کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ اِنْفِرُوا خِفَافًا وَ ثِقَالًا (اتوبة: 41) یعنی نکل کھڑے ہو ہلکے بھی اور بھاری بھی۔انْفِرُوا خِفَافًا وَ ثِقَالًا اور میں اپنے آپ کو ہلکا بھی پاتا ہوں اور بھاری بھی۔ایک روایت میں مذکور ہے کہ اہل مکہ میں سے کسی شخص سے مروی ہے کہ یزید بن معاویہ جس وقت حضرت ابو ایوب انصاری کے پاس آیا تو انہوں نے اس سے کہا کہ لوگوں سے میر اسلام کہنا۔وہ مجھے لے کر چلیں اور جتنا دور وہ مجھے لے جاسکتے ہیں لے جائیں تو یزید نے لوگوں کو وہ سب بتایا جو حضرت ابو ایوب نے ان سے کہا تھا۔لوگوں نے مانا اور ان کے جنازے کو جس حد تک وہ لے جاسکتے تھے لے گئے۔حضرت ابوایوب انصاری نبی کریم ملی الیکم کے بعد اپنی وفات تک جہاد سے چمٹے رہے یہاں تک کہ ان کی وفات قسطنطنیہ میں ہوئی۔ایک روایت میں مذکور ہے کہ باون ہجری میں یزید بن معاویہ نے اپنے والد امیر معاویہ کی خلافت میں قسطنطنیہ کی جنگ لڑی۔اسی سال حضرت ابوایوب انصاری کی وفات ہوئی۔یزید بن معاویہ نے ان کا نماز جنازہ پڑھایا۔ان کی قبر روم میں قلعہ قسطنطنیہ کے پاس ہے۔راوی کہتے ہیں کہ مجھے معلوم ہوا کہ اہل روم ان کی قبر کی حفاظت اور مرمت کرتے ہیں اور قحط کے ایام میں وہ آپ کے ذریعے پانی طلب کرتے ہیں۔مزار مبارک 80 ایک روایت کے مطابق حضرت ابوایوب انصاری نے امیر معاویہ کے عہد میں یزید کی کمان میں رومی حکومت کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اور قسطنطنیہ کے شہر کے پاس پچاس یا اکاون ہجری میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ایک روایت کے مطابق یزید نے گھڑ سواروں کو حکم دیا جو حضرت ابو ایوب انصاری کی قبر پر آگے پیچھے دوڑتے رہے یہاں تک کہ ان کی قبر کا نشان مٹ گیا۔ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جس رات حضرت ابوایوب کو دفن کیا گیا اس کی صبح رومیوں نے مسلمانوں سے پوچھا تم لوگ رات کو کیا کرتے رہے۔مسلمانوں نے بتایا کہ یہ حضرت ابو ایوب انصاری ہمارے نبی صلی علیکم کے کبار صحابہ میں سے تھے اور اسلام قبول کرنے کے لحاظ سے ان سب سے قدیم تھے۔ہم نے انہیں دفن کیا جیسا کہ تم دیکھ چکے ہو اور اللہ کی قسم! اگر قبر کھودی گئی تو جب تک ہمارے پاس حکومت ہے، عرب کی سر زمین میں تمہارا یہ ناقوس نہیں بجے گا۔مجاہد کہتے ہیں کہ جب ان کے ہاں قحط پڑتا تو ان کی قبر سے