اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 29
ب بدر جلد 4 فضل و کمال 29 حضرت ابوایوب کا فضل و کمال اس قدر مسلم تھا کہ خود صحابہ ان سے مسائل دریافت کرتے تھے۔حضرت ابن عباس، ابن عمر، براء بن عازب، انس بن مالک، ابو أمامه، زید بن خالد جُهَنِي مِقْدَامُ بن مَعْدِی گرب، جابر بن سمرہ، عبد اللہ بن یزید خظمی وغیرہ جو آنحضرت صلی علیم کے تربیت یافتہ تھے۔حضرت ابو ایوب کے فیض سے بے نیاز نہیں تھے۔تابعین میں سعید بن مسیب، عروہ بن زبیر ، سالم بن عبد الله، عطاء بن یسار، عطاء بن يزيد ليني، أبو سَلَمه، عبد الرحمن بن ابی لیلی بڑے پائے کے لوگ ہیں تاہم وہ حضرت ابو ایوب کے ارادت مندوں میں داخل تھے۔79 ایک حدیث جو اپنے آخری وقت میں بیان کی حضرت ابوایوب انصاری سے مروی ہے کہ وہ معاویہ کے زمانے میں جہاد کے لیے نکلے۔وہ کہتے ہیں کہ میں بیمار ہو گیا۔مرض میں شدت ہو گئی تو اپنے ساتھیوں سے کہا کہ اگر میں مر جاؤں تو مجھے اٹھا لینا اور جب تم لوگ دشمن کے مقابلے میں صف بستہ ہو جاؤ تو مجھے اپنے قدموں کے پاس دفن کر دینا۔میں تم سے ایک حدیث بیان کروں گا جو میں نے رسول اللہ صلی علیم سے سنی ہے۔اگر میری وفات قریب نہ ہوتی تو میں اسے بیان نہ کرتا۔میں نے رسول اللہ صلی الی ایم کو فرماتے سنا کہ جو اس حالت میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ ٹھہرایا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گیا۔ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابو ایوب انصاری کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا میں نے تم لوگوں سے ایک ایسی چیز چھپائی ہوئی تھی جو میں نے رسول اللہ صلی الی الم سے سنی تھی۔آپ نے فرمایا اگر تم لوگ گناہ نہ کرتے تو اللہ تبارک و تعالیٰ ایسی قوم کو پیدا کر تا جو گناہ کرتی اور پھر اللہ اسے بخش دیتا۔یعنی اللہ تعالیٰ اپنی رحمانیت اور بخشش کی صفت کا اس حد تک پاس کرتا ہے۔شوق جہاد اور دشمن کے علاقہ میں تدفین کی وصیت راوی محمد بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوایوب انصاری غزوہ بدر میں شریک ہوئے۔آپ مسلمانوں کی کسی لڑائی میں پیچھے نہیں رہے سوائے اس کے کہ آپ کسی دوسری لڑائی میں شامل ہوتے۔یعنی اگر ایک وقت میں دو مختلف جنگ ہو رہی ہو تیں تو کسی نہ کسی جنگ میں لازمی شامل ہوتے تھے۔صرف ایک سال وہ لڑائی میں شامل نہیں ہوئے کیونکہ لشکر پر ایک نوجوان سپہ سالار بنا دیا گیا تھا وہ اس سال بیٹھے رہے۔اس سال کے بعد وہ افسوس کرتے اور کہتے کہ مجھے اس بات سے کیا غرض کہ مجھ پر کون عامل مقرر کیا گیا۔مجھے اس بات سے کیا غرض کہ مجھ پر کون عامل مقرر کیا گیا۔مجھے اس بات سے کیا غرض کہ مجھ پر کون عامل مقرر کیا گیا۔تین دفعہ انہوں نے یہ بات کہی۔بیان کیا جاتا ہے کہ جس جوان کی امارت کا اس روایت میں ذکر کیا گیا ہے وہ عبد الملک بن مروان تھا۔راوی کہتے ہیں کہ پھر حضرت