اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 432
اصحاب بدر جلد 4 432 درخت پر عرشہ بنوایا جیسے ہمارے ہاں لوگ باغات کی حفاظت کے لیے بنالیتے ہیں۔آپ اس عرشے میں آدمیوں کی مدد سے بیٹھ جاتے تھے تا مسلمان فوج انہیں دیکھتی رہے اور اسے خیال رہے کہ ان کا کمانڈر ان کے ساتھ ہے۔انہی دنوں آپ کو اطلاع ملی کہ ایک عرب سردار نے شراب پی ہے۔حضرت مصلح موعود لکھتے ہیں کہ شراب اگر چہ اسلام میں حرام تھی مگر عرب لوگ اس کے بہت عادی تھے اور عادت جب پڑ جائے تو مشکل سے چھوٹتی ہے اور اس سردار کو ابھی اسلام لانے پر دو تین سال کا ہی عرصہ گزرا تھا اور دو تین سال کے عرصہ میں جب پرانی عادت پڑی ہو تو حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ پھر عادت جاتی نہیں ہے۔بہر حال حضرت سعد بن ابی وقاص کو جب اس مسلمان عرب سردار کی اطلاع ملی کہ اس نے شراب پی ہے تو آپ نے اسے قید کر دیا۔ان دنوں با قاعدہ قید خانے نہیں ہوتے تھے۔جس شخص کو قید کرنا مقصود ہو تا اسے کسی کمرے میں بند کر دیا جاتا تھا اور اس پر پہرہ مقرر کر دیا جاتا تھا۔چنانچہ اس مسلمان عرب سردار کو بھی ایک کمرے میں بند کر دیا گیا اور دروازے پر پہرہ لگا دیا گیا۔پھر لکھتے ہیں کہ وہ سال، جب یہ جنگ ہو رہی تھی، تاریخ اسلام میں مصیبت کا سال کہلاتا ہے کیونکہ مسلمانوں کا جنگ میں بہت نقصان ہوا تھا۔ایک جگہ پر اسلامی لشکر کے گھوڑے دشمن کے ہاتھیوں سے بھاگے۔پاس ہی ایک چھوٹا سا دریا تھا۔گھوڑے اس میں کو دے اور عرب چونکہ تیر نا نہیں جانتے تھے اس لیے سینکڑوں مسلمان ڈوب کر مر گئے۔اس لیے اس سال کو مصیبت کا سال کہتے ہیں۔بہر حال وہ مسلمان عرب سردار کمرے میں قید تھا۔مسلمان سپاہی جنگ سے واپس آتے اور اس کے کمرے کے قریب بیٹھ کر یہ ذکر کرتے کہ جنگ میں مسلمانوں کا بڑا نقصان ہوا ہے۔وہ کڑھتا اور ایس بات پر اظہار افسوس کرتا کہ وہ اس موقع پر جنگ میں حصہ نہیں لے سکا۔بے شک اس میں کمزوری تھی کہ اس نے شراب پی لی لیکن وہ تھا بڑا بہادر ، اس کے اندر جوش پایا جاتا تھا۔جنگ میں مسلمانوں کے نقصانات کا ذکر سن کر وہ کمرے میں اس طرح ٹہلنے لگ جاتا جیسے پنجرے میں شیر ٹہلتا ہے۔ٹہلتے ٹہلتے وہ شعر پڑھتا جس کا مطلب یہ تھا کہ آج ہی موقع تھا کہ تو اسلام کو بچاتا اور اپنی بہادری کے جوہر دکھاتا مگر تُو قید ہے۔حضرت سعد کی بیوی بڑی بہادر عورت تھیں۔وہ ایک دن اس کے کمرے کے پاس سے گزریں تو انہوں نے وہ شعر سن لیے۔انہوں نے دیکھا کہ وہاں پہرہ نہیں ہے۔وہ دروازے کے پاس گئیں اور اس قیدی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تجھے پتہ ہے کہ سعد نے تجھے قید کیا ہوا ہے۔اگر اسے پتہ لگ گیا کہ میں نے تجھے قید سے آزاد کر دیا ہے تو مجھے چھوڑے گا نہیں لیکن میراجی چاہتا ہے کہ میں تجھے قید سے آزاد کر دوں تا کہ تو اپنی خواہش کے مطابق اسلام کے کام آسکے۔اس نے کہا اب جو لڑائی ہو تو مجھے چھوڑ دیا کریں۔میں وعدہ کرتا ہوں کہ لڑائی کے بعد فوراً واپس آکر اس کمرے میں داخل ہو جایا کروں گا۔اس عورت کے دل میں بھی اسلام کا درد تھا اور اس کی حفاظت کے لیے جوش پایا جاتا تھا اس لیے اس نے اس شخص کو قید سے نکال دیا۔چنانچہ وہ لڑائی میں شامل ہوا اور ایسی بے جگری سے لڑا کہ اس کی بہادری کی وجہ سے اسلامی لشکر بجائے پیچھے ہٹنے کے آگے بڑھ گیا۔سعد نے اسے پہچان لیا اور بعد میں کہا کہ آج کی لڑائی میں وہ شخص موجود تھا جسے میں نے شراب پینے کی وجہ سے قید کیا ہوا تھا۔گو اس نے چہرے پر نقاب