اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 418
بدر جلد 4 418 آنحضرت صلی ا ولم نے ان کے لئے دعا کی تھی کہ اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدِ إِذَا دَعَا کہ اے اللہ ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا کو قبول کیجیؤ اور اِكْمَال فِي اسْمَاءِ الرِّجال میں ہے کہ حضور صلی ا یکم نے انہیں یہ دعادی تھی کہ اللَّهُمَّ سَيّد سَهُمَهُ وَآجِبْ دَعْوَتَه کہ اے اللہ ! ان کا تیر ٹھیک نشانے پر بیٹھے اور ان کی دعا قبول کرنا۔986 آنحضرت صلی ملی یکم کی اسی دعا کی وجہ سے حضرت سعد قبولیت دعا کی وجہ سے مشہور تھے۔987 حضرت سعد بن ابی وقاص مستجاب الدعوات تھے۔ایک شخص نے آپ پر جھوٹ گھڑا تو آپ نے اس کے خلاف دعا کی کہ اے اللہ ! اگر یہ جھوٹ بول رہا ہے تو اس کی بصارت جاتی رہے اور اس کی عمر طویل ہو اور اسے فتنہ میں مبتلا کر دے۔پس اس شخص کو یہ تمام چیزیں پہنچیں۔88 988 حضرت علی کو برا بھلا کہنے والا، اور حضرت سعد کی بددعا اور عبرتناک انجام ایک روایت میں آتا ہے کہ قیس بن ابی حازم بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں مدینہ کے بازار میں جارہا تھا کہ میں اختجارُ الزّيت مقام پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ لوگوں کا ایک ہجوم ایک شخص کے پاس موجود تھا جو سواری پر بیٹھا تھا اور حضرت علی کو گالیاں نکال رہا تھا۔اتنے میں حضرت سعد بن ابی وقاص وہاں آگئے اور ان میں کھڑے ہو گئے اور ان سے پوچھا کہ کیا ہوا ہے ؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ آدمی حضرت علی کو گالیاں دے رہا ہے۔حضرت سعد آگے بڑھے تو لوگوں نے انہیں راستہ دیا یہاں تک کہ آپ اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور پوچھا اے شخص اتو کیوں حضرت علی کو گالیاں دے رہا ہے ؟ کیا وہ سب سے پہلے اسلام نہیں لائے تھے ؟ کیا وہ پہلے شخص نہیں تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی علی ریم کے ساتھ نماز پڑھی؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ متقی انسان نہیں ہیں ؟ کیا وہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم والے انسان نہیں ہیں ؟ حضرت سعد بیان کرتے گئے یہاں تک کہ انہوں نے فرمایا کہ نیز کیارسول اللہ صلی الی یکم نے ان سے اپنی بیٹی بیاہ کر ان کو اپنی دامادی کا شرف نہیں بخشا تھا؟ کیا وہ رسول اللہ صلی ایم کے ساتھ غزوات میں جھنڈا اٹھانے والے نہیں تھے ؟ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت سعد نے قبلے کی طرف رخ کیا اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھایا اور دعا کی کہ اے اللہ ! اگر اس نے تیرے اولیاء میں سے ایک ولی یعنی حضرت علی ہو گالیاں دی ہیں تو تو اس مجمعے کے منتشر ہونے سے پہلے اپنی قدرت کا نشان دکھا۔یہ مستند رک کا حوالہ ہے۔راوی قیس کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! ابھی ہم وہاں سے منتشر نہیں ہوئے تھے کہ اس شخص کی سواری نے اسے نیچے گرا دیا اور اس کے سر کو اپنے پیروں سے پتھر پر مارا جس سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔989