اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 405 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 405

تاب بدر جلد 4 405 متعلق جانتا ہوں جو قیامت کے دن تہامہ پہاڑوں جتنی چمکتی ہوئی نیکیوں کے ساتھ آئیں گے لیکن اللہ عز و جل ان کو بے وقعت قرار دے کر ہوا میں بکھیر دے گا۔اس پر مزید ایک روای کا ایک بیان ہے۔ثوبان نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہمارے لیے ان کی کوئی نشانی بتادیں۔ہمیں ان کے متعلق وضاحت سے بتادیں تاکہ ہم ان میں سے نہ ہو جائیں اور ہمیں علم ہی نہ ہو۔آپ کسی تمیم نے فرمایا تمہارے ہی بھائی ہیں، تمہاری ہی جلدوں کے سے ہیں یعنی تمہاری جنس کے لوگ ہیں، ایسے ہی رنگ ہیں۔وہ رات کے وقت میں عبادت وغیرہ کے لیے بھی ایسے ہی وقت لیتے ہوں گے جیسے تم لیتے ہو، عبادت گزار بھی ہوں گے لیکن وہ ایسے لوگ ہیں کہ جب اللہ کے محارم کی طرف جاتے ہیں تو اس کی بے حرمتی اور پامالی کرتے ہیں۔جن چیزوں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ، حرام فرمایا ہے ان کو پھر احساس ہی نہیں ہو تا کہ کیا چیز حلال ہے اور کیا حرام ہے اور پھر دنیا ان پر غالب آجاتی ہے۔پس یہ ایک مستقل سوچنے والا اور بڑے خوف کا مقام ہے۔اللہ تعالیٰ ہر ایک کو ہمیشہ اپنا جائزہ لینے کی توفیق عطا فرما تار ہے۔کبار صحابہ کے نام پر بچوں کے نام 942 حضرت عبد اللہ بن عمر کے بیٹوں کا نام سالم ، واقد اور عبد اللہ تھا۔جو انہوں نے بعض کبار صحابہ کے نام پر رکھے تھے۔ان میں سے ایک نام سالھ بھی تھا جو سالِم مولی ابو حُذَيْفَہ کے نام پر رکھا گیا تھا۔سعید بن المسیب بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے حضرت عبد اللہ بن عمرؓ نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو میں نے اپنے بیٹے کا نام سالِعہ کیوں رکھا ہے ؟ کہتے ہیں میں نے عرض کی کہ میں نہیں جانتا۔اس پر فرمانے لگے کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام حضرت سَالِم مولی ابو حذیفہ کے نام پر سالم رکھا ہے۔پھر کہنے لگے کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام واقد کیوں رکھا ہے ؟ میں نے کہا نہیں۔نہیں جانتا تو کہنے لگے حضرت واقد بن عبد اللہ یر بوعی کے نام پر کھا ہے۔پھر پوچھا کہ کیا تم جانتے ہو کہ میں نے اپنے بیٹے کا نام عبد اللہ کیوں رکھا ہے۔جب میں نے کہا کہ نہیں جانتا تو کہنے لگے کہ حضرت عبد اللہ بن رواحہ کے نام پر عبد اللہ رکھا ہے۔943 تو صحابہ جو بڑے کبار صحابہ تھے ان کی بڑی قدر کیا کرتے تھے اور اپنے بچوں کے نام کسی خاص مقصد سے پرانے بزرگوں کے ناموں پر رکھا کرتے تھے۔کوئی گھبراہٹ نہیں ہونی چاہیے حضرت عبد اللہ بن عمر و سے مروی ہے کہ ایک غزوہ میں ہم رسول اللہ صلی علیکم کے ساتھ تھے۔کچھ لوگ گھبراگئے تھے۔جنگ کی بڑی شدت ہوئی تو کچھ لوگ گھبراگئے۔کہتے ہیں کہ میں اپنا ہتھیار لے کر نکلا تو میری نظر حضرت سالم مولی ابی حذیفہ پر پڑی۔ان کے پاس بھی اپنے ہتھیار تھے۔چہرے پر رض