اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 404 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 404

اصحاب بدر جلد 4 404 الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اس کی تلاوت سننے لگ گئی تھی جس وجہ سے دیر ہو گئی۔آنحضور صلی الیکم نے چادر اوڑھی اور باہر نکل کر دیکھا تو حضرت سالم تلاوت کر رہے تھے۔اس پر آپ نے فرمایا شکر ہے اللہ تعالیٰ کہ جس نے تم جیسے قاری کو میری امت میں سے بنایا۔939 غزوہ اُحد کے موقع پر آنحضرت صل الم کے زخم دھونے کی سعادت غزوہ اُحد کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ جو زخمی ہوئے تو آپ کے زخم دھونے کی سعادت بھی حضرت سالم کو نصیب ہوئی۔قتادہ سے مروی ہے کہ غزوہ اُحد کے دن آنحضور صلی للی کم کی پیشانی اور دانت ( جو کچلی اور سامنے کے دانتوں کے درمیان تھے ) زخمی ہو گئے تھے۔حضرت سَالِهِ مَولیٰ ابو حُذَيْفَهُ آپ مصلی تعلیم کے زخم دھو رہے تھے اور آپ صلی علیہ کی فرمارہے تھے کہ وہ قوم کیسے فلاح پاسکتی ہے جس نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا سلوک کیا۔اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ لَيْسَ لَكَ مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٍ أَوْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ أَوْ يُعَذِّبَهُمْ فَإِنَّهُمْ ظُلِمُونَ (ال عمران:129 ) یعنی تیرے پاس کچھ اختیار نہیں خواہ ان پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جائے یا انہیں عذاب دے۔وہ بہر حال ظالم لوگ ہیں۔10 940 بڑی غور سے سننے والی ایک بات حضرت سالم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم لائے جائے گی۔یہ بڑی غور سے سننے والی بات ہے کہ قیامت کے دن ایک ایسی قوم لائے جائے گی جن کے پاس نیکیاں تہامہ پہاڑوں ( تہامہ جو تھا سال عرب کے ساتھ ایک نشیبی علاقہ ہے جو سیناء سے شروع ہو کر عرب کے مغربی اور جانب واقع ہے۔تہامہ کے پہاڑوں کا ایک سلسلہ ہے جو خلیج فلزم سے شروع ہوتا ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ ان کی نیکیاں تہامہ کے پہاڑوں کی مانند ہوں گی لیکن جب انہیں پیش کیا جائے گا تو اللہ تعالی ان کے تمام تر اعمال ضائع کر دے گا اور پھر انہیں آگ میں ڈال دے گا۔اس پر حضرت سالم نے عرض کی کہ یارسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان۔ہمیں ایسے لوگوں کی نشاندہی فرما دیں تاکہ ہم انہیں پہچان سکیں۔قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے میں اپنے بارے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں بھی ان میں شامل نہ ہو جاؤں۔اس پر رسول اللہ صلی الیم نے فرمایا کہ یہ ایسے لوگ ہوں گے، (غور سے سننے والی بات ہے کہ ایسے لوگ ہوں گے ) جو روزے رکھتے ہوں گے، نمازیں پڑھتے ہوں گے اور رات کو بہت تھوڑا سوتے بھی ہوں گے، نفل پڑھتے ہوں گے لیکن جب کبھی ان کے سامنے حرام پیش کیا جائے گاوہ اس پر ٹوٹ پڑیں گے۔اس کے باوجود دنیاوی لالچوں میں پڑ جائیں گے اور یہ نہیں دیکھیں گے حرام کیا ہے، حلال کیا ہے۔اس وجہ سے اللہ ان کے اعمال ضائع کر دے گا۔941 حضرت ثوبان " سے مروی ہے کہ نبی صلی علیکم نے فرمایا میں اپنی امت میں کچھ ایسے لوگوں کے