اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 400
400 122) صحاب بدر جلد 4 حضرت زید بن ودیعه ย حضرت زید بن ودیعه - حضرت زید کا تعلق انصار کے قبیلہ خزرج سے تھا۔آپ نے بیعتِ عقبہ ، غزوہ بدر اور اُحد میں بھی شرکت کی اور غزوہ اُحد میں ہی شہادت کا رتبہ حاصل کیا۔923 حضرت زید کی والدہ ایم زید بنتِ حَارِث تھیں۔آپؐ کی اہلیہ کا نام زینب بن سہل تھا۔جس سے آپ کے تین بچے سعد بن زید۔امامہ اور اُمّ کلثوم شامل ہیں۔آپ کے بیٹے سعد حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں عراق آگئے تھے اور وہاں عَقَرْقُوف کے مقام پر آباد ہو گئے تھے۔عَقَرْقُوف عراق کے شہر بغداد کے قریب ایک بستی کا نام ہے۔924 123 حضرت سالم بن عمير بن ثابت ข حضرت سالم کا تعلق انصار کے قبیلہ بنو عمرو بن عوف سے تھا۔آپ بیعت عقبہ میں شامل ہوئے۔حضرت سالم غزوہ بدر اور احد اور خندق اور تمام غزوات میں آنحضرت صلی املی کام کے ساتھ شریک ہوئے۔925 غزوہ تبوک میں شرکت کے خواہشمند غریب صحابہ میں سے ایک غزوہ تبوک کے موقع پر جو غریب اصحاب حضور ملی یکم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہ غزوہ تبوک کے لیے جانا چاہتے تھے اور سواری نہ ہونے کی وجہ سے روتے تھے ، حضرت سالم بھی ان اصحاب میں شامل تھے۔یہ سات غریب اصحاب رسول اللہ صلی علیہ کم کے پاس آئے اس وقت آپ تبوک لیے جانا چاہتے تھے۔ان اصحاب نے عرض کیا کہ ہمیں سواری دیجیے۔آپ صلی علی یم نے فرمایا۔میرے پاس کوئی سواری نہیں جس پر میں تم لوگوں کو سوار کروں۔وہ لوگ واپس گئے۔آنکھوں میں اس غم کی وجہ سے آنسو جاری تھے کہ خرچ کرنے کو کچھ نہ پایا۔ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ آیت وَلَا عَلَى الَّذِينَ إِذَا مَا اتَوكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَا أَجِدُ مَا أَجِيلُكُمْ عَلَيْهِ تَوَلَّوْا وَ أَعْيُنُهُم تَفِيضُ مِنَ الدَّفْعِ حَزَنَّا إِلَّا ورود يَجِدُوا مَا يُنْفِقُونَ (الو به: 12) یعنی نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس اس وقت آئے جب جنگ کا