اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 399 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 399

اصحاب بدر جلد 4 399 اگر میں شعر کہنے کی طاقت رکھتا تو میں بھی ضرور حضرت زید پر اسی طرح رو تا جس طرح تم اپنے بھائی پر روتے ہو۔حضرت میم نے کہا کہ اے امیر المومنین! اگر میر ابھائی جنگ یمامہ میں اسی طرح شہید ہو تا جس طرح آپ کے بھائی شہید ہوئے ہیں تو میں کبھی اس پر نہ رو تا۔یہ بات حضرت عمرؓ کے دل کو لگی اور اپنے بھائی کی طرف سے آپ کو تسلی ہو گئی۔حضرت عمر کو اپنے بھائی کی جدائی کا بہت غم تھا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب باد صبا چلتی ہے تو میرے پاس زید کی خوشبولاتی ہے۔920 مسیلمہ کذاب کے ساتھیوں میں سے رجال بن عُنْفُوه حضرت زید بن خطاب ہی کے ہاتھوں سے مارا گیا۔ایک روایت میں رجال بن عُنْفُوَة کا نام مہار بھی آیا ہے۔یہ وہ شخص تھا جس نے اسلام قبول کیا۔ہجرت کی اور قرآن کا قاری تھا۔پھر مسیلمہ کے ساتھ شامل ہو گیا۔(اس لئے ہمیشہ انجام بخیر ہونے کی دعا مانگنی چاہئے اور اسے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی العلیم سے سنا ہے کہ انہوں نے تمہیں نبوت میں شریک کر لیا ہے۔یہ بنو حنیفہ کے لئے سب سے بڑا فتنہ تھا۔حضرت ابوہریرۃ سے مروی ہے کہ میں رسول اللہ صلی علیم کے پاس ایک وفد کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ہمارے ساتھ رجال بن عُنْفُوَہ بھی تھا۔آپ نے فرمایا کہ تم میں ایک شخص ہے جس کی داڑھ اُحد پہاڑ کے برابر آگ میں ہو گی یعنی کہ وہ آگ میں ہو گا۔وہ ایک قوم کو گمراہ کرے گا۔پھر میں اور رجال بن عُنْفُوَہ باقی بچے۔میں ہمیشہ اس بارے میں ڈرتا تھا یہاں تک کہ رجال بن عُنْفُوَهُ مُسَيْلِمَه کذاب کے ساتھ نکلا اور اس نے اس کی نبوت کی گواہی دی۔یہ رجال بن عُنْفُوَہ جنگ یمامہ میں قتل ہوا اور حضرت زید بن خطاب نے اسے قتل کیا۔921 حضرت زید بن خطاب کو ابو مریم الحنفی نے شہید کیا تھا۔حضرت عمرؓ نے ایک دفعہ ابو مریم سے جب اس نے اسلام قبول کر لیا تھا کہا کہ کیا تم نے زید کو شہید کیا تھا۔اس نے حضرت عمرؓ سے کہا کہ اے امیر المومنین ! اللہ تعالیٰ نے حضرت زید کو میرے ہاتھوں عزت بخشی اور مجھے ان کے ہاتھوں رسوا نہیں کیا۔حضرت عمرؓ نے ابو مریم سے فرمایا کہ تمہاری رائے میں اس روز جنگ یمامہ میں مسلمانوں نے تمہارے کتنے آدمیوں کو قتل کیا تھا۔ابو مریم نے کہا کہ چودہ سو یا کچھ زائد۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ ہنس القتلی کہ یہ کیا ہی برے مقتولین ہیں۔ابو مریم نے کہا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے مجھے باقی رکھا یہاں تک کہ میں نے اس دین کی طرف رجوع کیا جو اس نے اپنے نبی اور مسلمانوں کے لئے پسند فرمایا۔حضرت عمر ، ابو مریم کی اس بات سے بہت خوش ہوئے۔ابو مریم بعد میں بصرہ کے قاضی بھی بنے۔922