اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 398 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 398

صحاب بدر جلد 4 398 کے وقت پھر اتار دی۔حضرت عمرؓ نے زرہ اتارنے کی وجہ پوچھی تو حضرت زید نے جواب دیا کہ میں بھی اسی شہادت کا خواہش مند ہوں جس کی آپ کو تمنا ہے اور دونوں نے زرہ کو چھوڑ دیا۔917 حضرت زید بن خطاب سے روایت ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی علی کریم نے فرمایا کہ اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔اپنے غلاموں کا خیال رکھو۔انہیں اسی میں سے کھلاؤ جو تم کھاتے ہو اور انہیں وہی پہناؤ جو تم خود پہنتے ہو۔اور اگر ان سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے جس پر تم ان کو معاف نہ کرنا چاہو تو اے اللہ کے بندو! انہیں بیچ دیا کرو اور انہیں سزا نہ دیا کرو۔جنگ یمامہ میں شہادت جنگ یمامہ میں جب مسلمانوں کے پاؤں اکھڑے تو حضرت زید بن خطاب بلند آواز میں پکارنے لگے، یہ دعا کرنے لگے کہ اے اللہ ! میں تجھ سے اپنے ساتھیوں کے بھاگ جانے پر معذرت کر تاہوں اور مسیلمہ کذاب اور مُحكم بن طفیل نے جو کام کیا ہے اس سے تیرے حضور اپنی براءت ظاہر کرتاہوں۔پھر آپ جھنڈے کو مضبوطی سے پکڑ کر دشمن کی صفوں میں آگے بڑھ کر اپنی تلوار کے جوہر دکھانے لگے یہاں تک کہ آپ شہید ہو گئے۔918 جب حضرت زید شہید ہو گئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا اللہ زید پر رحم کرے۔میرا بھائی دو نیکیوں میں مجھ پر سبقت لے گیا یعنی اسلام قبول کرنے میں بھی مجھ سے پہلے اس نے اسلام قبول کیا اور شہید بھی مجھ سے پہلے ہو گیا۔آج تک کبھی کسی نے مجھ سے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تم نے کی 919 ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر نے متمم بن نویرہ کو اپنے بھائی مالک بن نویرہ کی یاد میں مرثیہ کہتے سنا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اگر میں بھی تمہاری طرح اچھے شعر کہتا ہو تا تو میں اپنے بھائی زید کی یاد میں ایسے ہی شعر کہتا جیسے تم نے اپنے بھائی کے لئے کہے ہیں تو متمم بن نویرہ نے کہا کہ اگر میرا بھائی بھی اسی طرح دنیا سے گیا ہو تا جیسے آپ کا بھائی گیا تو میں کبھی اس پر غمگین نہ ہو تا۔اس پر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ آج تک کبھی کسی نے مجھ سے ایسی تعزیت نہیں کی جیسی تم نے کی۔اس واقعہ کی ایک اور تفصیلی روایت بھی ملتی ہے کہ حضرت عمرؓ نے حضرت مُتمم بن نويرة سے فرمایا کہ تمہیں اپنے بھائی کا کس قدر سخت رنج ہے۔انہوں نے اپنی ایک آنکھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ میری یہ آنکھ اسی غم میں ضائع ہوئی ہے۔میں اپنی صحیح آنکھ کے ساتھ اس قدر رویا کہ ضائع ہونے والی آنکھ نے بھی آنسو بہانے میں اس کی مدد کی ہے۔حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ یہ ایسا شدید رنج ہے کہ کسی نے اپنے ہلاک ہونے والے کے لئے اتنے شدید غم کا اظہار نہ کیا ہو گا۔پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ اللہ زید بن خطاب پر رحمت کرے۔