اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 397
اصحاب بدر جلد 4 397 خدا تعالیٰ کے فضل اور اس کی تائید سے حضرت اسامہ نے آنحضرت صلی ایم کے قول کو حرف بہ حرف پورا کر دکھایا اور انتظام و انصرام کے لحاظ سے بھی اور معرکہ آرائی میں انتہائی کامیابی اور کامرانی کے لحاظ سے بھی اس مہم کو اعلیٰ ثابت کر دیا۔آپ نے فرمایا تھا کہ یہ بہترین سردار ہے۔خدا تعالیٰ کے فضل اور آنحضرت صلی علیہ یکم اور خلیفہ وقت کی دعاؤں کی قبولیت اور برکت نے ثابت کر دیا کہ حضرت اسامہ بھی اپنے شہید والد حضرت زید کی طرح نہ صرف یہ کہ سرداری کے اہل تھے بلکہ ان خواص اور اوصاف میں ایک بلند مقام رکھتے تھے اور یہ خلیفہ وقت کا مضبوط عزم و ہمت اور بلند حوصلہ ہی تھا جس نے متعدد اندرونی اور بیرونی خطرات اور اعتراضات کے باوجود اس لشکر کو روانہ کیا اور پھر خدا نے کامیابی اور کامرانی سے نواز کر مسلمانوں کو پہلا سبق یہ سکھا دیا کہ آنحضرت صلی ایم کی وفات کے بعد اب تمام برکتیں صرف اطاعت خلافت میں ہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی سر الخلافۃ میں اس 914 واقعہ کا ذکر کیا ہوا ہے۔بہر حال اللہ تعالیٰ حضرت زید بن حارثہ اور پھر ان کے بیٹے حضرت اسامہ بن زید پر ، جو ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ صلی علی یلم کے پیارے اور محبوب تھے۔ہزاروں ہزار رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے۔915 121 حضرت عمر کے بر اور اکبر حضرت زید بن خطاب ابتدائی اسلام قبول کرنے اور ہجرت کرنے والے حضرت زید بن خطاب۔آپ حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی تھے اور حضرت عمرؓ کے اسلام قبول کرنے سے قبل اسلام لے آئے تھے۔یہ ابتدائی ہجرت کرنے والوں میں سے بھی تھے۔غزوہ بدر میں ، احد میں ، خندق میں ، حدیبیہ میں اور بیعت رضوان سمیت غزوات میں رسول اللہ صلی علیم کے ساتھ شامل ہوئے۔رسول اللہ صلی ا ہم نے آپ کی مؤاخات حضرت معن بن عدی کے ساتھ کروائی تھی۔یہ دونوں اصحاب جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔916 جنگ احد میں بغیر زرہ لڑنا اور شہادت کی تمنا غزوۂ احد کے دن حضرت عمرؓ نے حضرت زید کو اللہ کی قسم دے کر فرمایا ( حضرت زید حضرت عمرؓ کے بڑے بھائی تھے ، ان کو کہا) کہ میری زرہ پہن لو۔حضرت زید نے کچھ دیر کے لئے زرہ پہن لی۔جنگ