اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 382 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 382

اصحاب بدر جلد 4 382 دور ہو سکتا تھا لیکن نہیں دور ہونے دیا۔باوجود اس کے کہ رسول کریم صلی اللی کلم نے استخارہ بھی کیا تھا دعائیں بھی کی تھیں اللہ تعالیٰ پر اتکال کیا تھا، کوشش کی تھی مگر حکمت الہی یہی تھی کہ زید اپنی بیوی کو طلاق دے دیں اور وہ رسول کریم صلی لیلی کام کی زوجیت میں جائے تاکہ یہ ثابت ہو کہ قانون ملکی کے لحاظ سے اولاد قانونِ قدرت والی اولاد کی طرح نہیں ہوتی۔یہ بھی ایک نکتہ ہے جو اس شادی کی حکمت کے پیچھے آپ نے بیان فرمایا۔881 آنحضور صل اللوم کا آزاد شدہ غلاموں کے ساتھ برتاؤ آنحضور صلی علیم کا آزاد شدہ غلاموں کے ساتھ جو برتاؤ تھا اس کے بارے میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب سیرت خاتم النبیین میں لکھتے ہیں کہ " آنحضرت صلی للی کمر کا یہ طریق تھا کہ لوگوں کے پرانے خیالات کی اصلاح کی غرض سے آپ غلاموں اور آزاد شدہ غلاموں میں سے قابل لوگوں کی تعظیم و تکریم کا خیال دوسرے لوگوں کی نسبت بھی زیادہ رکھتے تھے۔چنانچہ آپ نے بہت سے موقعوں پر اپنے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ اور ان کے لڑکے اسامہ بن زید کو جنگی مہموں میں امیر مقرر فرمایا اور بڑے بڑے صاحب عزت اور جلیل القدر صحابیوں کو ان کے ماتحت رکھا اور جب نا سمجھ لوگوں نے اپنے پرانے خیالات کی بنا پر آپ کے اس فعل پر اعتراض کیا تو آپ نے فرمایا تم لوگوں نے اسامہ کے امیر بنائے جانے پر اعتراض کیا ہے اور اس سے پہلے تم اس کے باپ زید کی امارت پر بھی طعن کر چکے ہو مگر خدا کی قسم جس طرح زید امارت کا حق دار اور اہل تھا اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے تھا اسی طرح اسامہ بھی امارت کا اہل ہے اور میرے محبوب ترین لوگوں میں سے ہے۔اس ارشاد نبوی پر جو اسلام کی حقیقی مساوات کا حامل تھا صحابہ کی گردنیں جھک گئیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اسلام میں کسی شخص کا غلام یا غلام زادہ ہونا یا بظاہر کسی ادنیٰ طبقے سے تعلق رکھنا اس کی ترقی کے رستہ میں حارج نہیں ہو سکتا، کوئی روک نہیں بن سکتا ) اور اصل معیار بہر صورت تقویٰ اور ذاتی 88211 قابلیت پر مبنی ہے۔" " پھر اس سے بڑھ کر کیا ہو گا کہ آپ نے اپنی حقیقی پھوپھی کی لڑکی زینب بنت جحش کو زید بن حارثہ سے بیاہ دیا اور عجیب کرشمہ یہ ہے کہ سارے قرآن میں اگر کسی صحابی کا نام مذکور ہوا ہے تو وہ یہی زید بن حارثہ نہیں۔"883 آزاد شدہ غلاموں کے اعلیٰ ترین مقام غلاموں کی اسلامی طریق پر آزادی کے بارے میں آپ مزید لکھتے ہیں کہ " اسلامی طریق پر آزاد ہونے والے لوگوں میں ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی نظر آتی ہے جو ہر قسم کے میدان میں ترقی کے اعلیٰ ترین مقام پر پہنچے ہیں اور جنہوں نے مختلف شعبوں میں مسلمانوں میں لیڈر ہونے کا مر تبہ حاصل