اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 374
اصحاب بدر جلد 4 374 قطعا کوئی دخل نہیں تھا۔آپ صلی للی یکم نے زینب کے ساتھ شادی کا فیصلہ فرمایا اور پھر حضرت زید کے ہاتھ ہی حضرت زینب کو شادی کا پیغام بھجوایا اور حضرت زینب کی طرف سے رضامندی کا اظہار ہونے پر ان کے بھائی ابو احمد بن جحش نے ان کی طرف سے ولی ہو کر چار سو درہم میں آنحضرت صلی علیم کے ساتھ ان کا نکاح کر دیا اور اس طرح وہ قدیم رسم ، جو عرب کی سرزمین میں راسخ ہو چکی تھی، آنحضرت صلی اللی نام کے ذاتی نمونے کے نتیجے میں اسلام میں جڑ سے اکھیڑ کر پھینک دی گئی۔نکاح کی رسم ادا کی گئی تھی اس جگہ یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ عام مؤرخین اور محدثین کا یہ خیال ہے کہ چونکہ زینب کی شادی کے متعلق خدائی وحی نازل ہوئی تھی اور خدا کے خاص حکم سے یہ شادی و قوع میں آئی اس لیے ظاہری طور پر ان کے نکاح کی رسم ادا نہیں کی گئی مگر یہ خیال درست نہیں ہے۔بے شک خدا کے حکم سے یہ شادی ہوئی اور کہا جاسکتا ہے کہ آسمان پر نکاح پڑھا گیا مگر اس وجہ سے شریعت کی ظاہری رسم جو تھی وہ بھی خدا ہی کی مقرر کردہ ہے اس سے آزادی حاصل نہیں ہو سکتی تھی۔چنانچہ ابن ہشام کی روایت ، جس کا حوالہ پہلے درج کیا گیا ہے اور جس میں ظاہری رسم نکاح کا واقع ہونا بتایا گیا ہے ، اس معاملہ میں واضح ہے اور کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔اور یہ جو حدیث میں آتا ہے کہ دوسری امہات المومنین کے مقابلے میں حضرت زینب یہ فخر کیا کرتی تھیں کہ تمہارے نکاح تمہارے ولیوں نے زمین پر پڑھائے ہیں اور میر انکاح آسمان پر ہوا ہے ، اس سے بھی یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ حضرت زینب کے نکاح کی ظاہری رسم ادا نہیں ہوئی تھی کیونکہ باوجود ظاہری رسم کی ادائیگی کے ان کا یہ فخر قائم رہتا ہے کہ ان کا نکاح خدا کے خاص حکم سے آسمان پر ہو مگر اس کے مقابل پر دوسری امہات المومنین کی شادیاں عام اسباب کے ماتحت ظاہری رسم کی ادائیگی کے ساتھ وقوع میں آئیں۔ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی می کنم بغیر اذن کے زینب کے پاس تشریف لے گئے تھے اور اس سے بھی یہ نتیجہ نکالا جاتا ہے کہ ان کے نکاح کی ظاہری رسم ادا نہیں ہوئی تھی مگر غور کیا جاوے تو اس بات کو بھی ظاہری رسم کے ادا ہونے یا نہ ہونے کے سوال سے کوئی تعلق نہیں ہے کیونکہ اگر اس سے یہ مراد ہے کہ آنحضرت صلی اللہ کی حضرت زینب کے گھر بغیر اجازت چلے گئے تھے تو یہ غلط اور خلاف واقعہ ہے کیونکہ بخاری کی صریح روایت (بڑی واضح روایت میں یہ ذکر ہے کہ شادی کے بعد زینب آنحضرت صلی للی کمر کے گھر میں رخصت ہو کر آئی تھیں نہ کہ آپ ان کے گھر گئے تھے اور اگر اس روایت سے یہ مراد ہے کہ جب وہ رخصت ہو کر آپ کے گھر آگئیں تو اس کے بعد آپ ان کے پاس بغیر اذن کے تشریف لے گئے تو یہ کوئی غیر معمولی اور خلافِ دستور بات نہیں ہے کیونکہ جب وہ آپ صلی الم کی بیوی بن کر آپ کے گھر آگئی تھیں تو پھر آپ نے بہر حال ان کے پاس جانا ہی تھا اور آپ کو اذن کی ضرورت نہیں تھی۔