اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 369 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 369

تاب بدر جلد 4 369 انس کی ماں نے رسول اللہ صلی علی یم کو کچھ کھجور کے درخت دیے ہوئے تھے۔871 نبی کریم صلی یکم نے یہ درخت اپنی کھلائی حضرت ام ایمن کو دے دیے جو حضرت اسامہ بن زید کی والدہ تھیں۔ابنِ شہاب کہتے تھے کہ مجھے حضرت انس بن مالک نے بتایا کہ نبی کریم صلی الی یکم جب اہل خیبر کی لڑائی سے فارغ ہوئے اور مدینہ کو لوٹ گئے تو مہاجرین نے انصار کے وہ عطیے یعنی وہ پھل دار درخت جو انہوں نے ان کو اپنے باغوں سے دیے ہوئے تھے ، واپس کر دیے۔اب ان کو اپنی بھی کچھ دولت جائیداد وغیرہ مل گئی تھی۔نبی کریم صل اللہ ہم نے بھی حضرت انس کی والدہ کو ان کی کھجوریں واپس کر دیں اور ان کی جگہ رسول اللہ صلی لی تم نے ام ایمن کو اپنے باغ میں سے کچھ درخت دے دیے۔بخاری کی ایک دوسری روایت میں اس کی مزید تفصیلات یوں ہیں کہ حضرت انس سے روایت ہے کہ کوئی صحابی نبی صلی یہ کلم کے لیے کھجوروں کے کچھ درخت خاص کر دیا کرتا تھا۔جب آپ صلی یہ نکم نے قریظہ اور نفیر فتح کیے تو آپ کو ان کی ضرورت نہ رہی۔تو وہ کہتے ہیں کہ میرے گھر والوں نے مجھے کہا کہ میں نبی کریم صلی علیکم کے پاس جاؤں اور آپ صلی الیہ کم سے وہ درخت جو انہوں نے آنحضرت صلی للی کم کو دیے تھے یا ان میں سے کچھ درخت واپس کرنے کے لیے کہوں کیونکہ اب آپ کو ضرورت نہیں رہی۔حضرت انس سے یہ روایت ہے۔تو کہتے ہیں کہ نبی صلی علیکم نے یہ درخت کیونکہ حضرت ام ایمن کو دیے ہوئے تھے تو یہ سن کر حضرت ام ایمن آئیں اور میری گردن میں کپڑا ڈالا اور بولیں کہ میں ہر گز نہیں دوں گی۔قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں! کہ یہ درخت تمہیں کبھی نہیں ملیں گے جبکہ یہ آنحضرت صلی اللہ تم مجھے دے چکے ہیں یا کچھ ایسا ہی کہا۔نبی صلی علیہم نے حضرت ام ایمن سے فرمایا کہ کوئی بات نہیں، واپس کر دو۔تمہیں اتنے ہی اور دوں گا۔جتنے تمہیں درخت دیے ہوئے ہیں اُتنے ہی دوسری جگہ سے اور دے دوں گا۔لیکن وہ کہتی تھیں کہ اللہ کی قسم ! ہر گز نہیں۔حضرت انس کہتے ہیں کہ میر اخیال ہے کہ آخر آپ صلی اللہ ہم نے ان کو ، حضرت ام ایمن کو اس سے دس گنا دیے یا کچھ ایسے ہی الفاظ تھے جو کہے۔172 کہ میں تمہیں دس گنا دے دوں گا۔اس کے بعد یہ درخت واپس کیے گئے۔ام ایمن کی ہجرت مدینہ اور آسمان سے پانی انترنا ایک روایت ہے کہ حضرت ام ایمن گو مدینہ کی طرف پیدل ہجرت کرتے وقت شدید پیاس لگی، بڑی بزرگ عورت تھیں، اللہ تعالیٰ سے ان کا بڑا خاص تعلق تھا۔اس وقت آپ کے پاس پانی بھی نہیں تھا اور گرمی بھی بہت شدید تھی۔انہوں نے اپنے سر کے اوپر کسی چیز کی آواز سنی تو کیا دیکھتی ہیں کہ ان پر آسمان سے ڈول کی مانند ایک چیز جھک آئی تھی جس سے پانی کے سفید قطرات گر رہے تھے۔انہوں نے اس میں سے پانی پایہاں تک کہ سیراب ہو گئیں۔وہ کہا کرتی تھیں کہ اس کے بعد سے مجھے کبھی پیاس اور تشنگی کا احساس نہیں ہوا، تکلیف نہیں ہوئی اور کبھی روزے کی حالت میں بھی پیاس محسوس ہوتی تو تب بھی میں پیاسی نہیں رہتی تھی۔