اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 368 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 368

تاب بدر جلد 4 زید سے کر دی گئی۔368 ایک روایت میں یہ ہے کہ حضرت ام ایمن نبی کریم صلی علیم سے نہایت مہربانی سے پیش آتیں اور آپ کا خیال رکھتی تھیں۔اس پر رسول اللہ صلی علیم نے فرمایا کہ جو اہل جنت کی خاتون سے شادی کر کے خوش ہونا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ ام ایمن سے شادی کرلے۔867 چنانچہ اس پر حضرت زید بن حارثہؓ نے ان سے شادی کی جس سے حضرت اسامہ پیدا ہوئے۔حضرت ام ایمن نے مسلمانوں کے ہمراہ حبشہ کی طرف ہجرت کی تھی۔وہاں سے ہجرت کے بعد مدینہ واپس آئیں اور غزوہ احد میں شرکت کی۔اس موقعے پر آپ لوگوں کو پانی پلاتیں اور زخمیوں کی تیمارداری کرتی تھیں۔ان کو غزوہ خیبر میں بھی شرکت کی توفیق ملی۔123 ہجری میں جب حضرت عمر نے شہادت پائی تو حضرت ام ایمن بہت روئیں۔لوگوں نے پوچھا کیوں روتی ہو تو انہوں نے جواب دیا کہ حضرت عمر کی شہادت سے اسلام کمزور پڑ گیا ہے۔حضرت ام ایمن کی وفات حضرت عثمان کے دورِ خلافت کے آغاز میں ہوئی۔حضرت زید کی حضرت ام ایمن سے شادی کے متعلق مختلف حوالوں سے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے جو تحریر کیا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے، جو آپ کی تحریرات میں ہے کہ ام ایمن وہی ہیں جو آپ کے والد کی وفات پر ایک لونڈی کی حیثیت میں آپ صلی اللہ ہم کو ورثہ میں پہنچی تھیں۔بڑے ہو کر آپ نے انہیں آزاد کر دیا تھا اور ان کے ساتھ بہت احسان کا سلوک فرماتے تھے۔بعد میں ام ایمن کی شادی آپ کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کے ساتھ ہو گئی اور ان کے بطن سے اسامہ بن زید پید اہوئے۔868 جنہیں الحِبُّ ابن الحب یعنی محبوب کا پیارا بیٹا کہا جاتا تھا۔رسول الله صلى اللی کم حضرت ام ایمن کو دیکھ کر فرمایا کرتے تھے کہ یا اُرہ یعنی اے میری والدہ۔جب آپ صلی علیکم حضرت ام ایمن کی طرف دیکھتے تو فرماتے ـ هذه بَقِيَّةُ أَهْلِ بَيْتِي۔یہ میرے اہل بیت میں سے باقی ماندہ ہیں۔ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی علیہ امر یہ بھی فرماتے تھے کہ ام ایمن انى بَعْدَ أُقنى۔یعنی ام ایمن میری حقیقی والدہ کے بعد میری والدہ ہے اور آپ صلی علی یکم ان کے گھر میں بھی ان کی ملاقات کے لیے تشریف لے جایا کرتے تھے۔870 حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ جب مہاجر مکہ سے مدینہ آئے اور ان کے ہاتھ میں کچھ بھی نہ تھا اور انصار زمین اور جائیداد والے تھے تو انصار نے ان سے معاہدہ کیا کہ وہ ان کو اپنے باغوں کا میوہ ہر سال دیا کریں گے لیکن ان میں کام کاج وہ خود کریں گے۔باغ کا پھل دیں گے ، آمد دیں گے لیکن جو باغ کی محنت مزدوری ہے، اس کو سنبھالنا ہے وہ خود کیا کریں گے۔مہاجرین کو نہیں کرنے دیں گے۔حضرت انس کی والدہ حضرت ام سلیم تھیں جو حضرت عبد اللہ بن ابی طلحہ کی بھی والدہ تھیں۔حضرت 869