اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 361 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 361

اصحاب بدر جلد 4 361 آپ کے بھائی کے حوالے سے ایک یہ روایت بھی ملتی ہے۔حضرت جبکہ جو عمر میں حضرت زید سے بڑے تھے ، ان سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ آپ دونوں میں سے کون بڑا ہے۔آپ یازید ؟ تو انہوں نے کہا زید مجھ سے بڑے ہیں۔میں بس ان سے پہلے پیدا ہو گیا تھا۔آپ کی مراد یہ تھی کہ حضرت زید اسلام لانے میں سبقت لے جانے کی وجہ سے آپ سے افضل ہیں۔852 حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی علیم کے آزاد کردہ غلام زید بن حارثہ کو زید بن محمد کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ قرآن کریم کی آیت نازل ہوئی کہ اُدعُوهُم لا بابِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللهِ (احزاب:6) کہ چاہیے کہ ان کے پالکوں کو ان کے باپوں کا بیٹا کہہ کر پکارو۔یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ حل ہے۔853 تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو حضرت براء بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی العلیم نے حضرت زید سے فرمایا۔اَنْتَ أَخُونَا وَ مَوْلَانَا تم ہمارے بھائی اور ہمارے دوست ہو۔854 ایک روایت میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ يَا زَیدُ اَنْتَ مَوْلای وَمِنْيَ وَإِلَى وَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَی کہ اے زید ! تو میر ا دوست ہے اور مجھ سے ہے اور میری طرف سے ہے اور تو مجھے سب لوگوں سے زیادہ محبوب ہے۔855 رسول اللہ صلی الم کے محبوب افراد میں سے 856 رض حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے حضرت اسامہ بن زید کے لیے میرے سے زیادہ وظیفہ مقرر کیا۔حضرت عمر کے یہ بیٹے تھے۔بیان کر رہے ہیں کہ اسامہ جو زیڈ کے بیٹے تھے ان کا وظیفہ جب مقرر ہوا تو میرے سے زیادہ تھا۔اس پر میں نے پوچھا کہ زیادہ کیوں ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ اسامہ رسول اللہ صلی علی کم کم تم سے زیادہ پیارا تھا۔اسامہ جو زید کا بیٹا تھا یہ تمہارے سے زیادہ پیارا آنحضرت صلی علیہ کم کو تھا اور اس کا باپ یعنی حضرت زید رسول اللہ صلی علیکم کو تمہارے باپ سے زیادہ پیارا تھا۔حضرت عمر اپنے بارے میں کہہ رہے ہیں کہ حضرت زید میرے سے زیادہ آنحضرت صلی لینے کی کو پیارے تھے۔سب سے پہلے ایمان لانے والے۔۔۔حضرت علی سے مروی ہے کہ حضرت زید بن حارثہ جو کہ رسول اللہ صلی علیم کے آزاد کردہ غلام تھے مردوں میں سب سے پہلے ایمان لائے اور نماز ادا کی۔857 اس بات کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا ہے کہ : " ہر طبقہ کے لوگ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا فرما دیے۔عثمان ، طلحہ اور زبیر مکہ کے چوٹی کے خاندانوں سے تعلق رکھتے تھے۔اگر کوئی کہتا کہ ادنی ادنیٰ لوگ اس کے ساتھ ہیں، اعلیٰ طبقہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص نے اس کو قبول نہیں