اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 360 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 360

اصحاب بدر جلد 4 زید آج سے میرا بیٹا ہ۔۔۔360 جب زید نے یہ باتیں کیں تو آپ صلی للہ نام خانہ خدا میں تشریف لے گئے اور اعلان کیا کہ زیڈ نے جس محبت کا ثبوت دیا ہے اس کی وجہ سے وہ آج سے میرا بیٹا ہے۔اس پر زید کا باپ اور چا دونوں خوش ہوئے اور خوش خوش واپس چلے گئے کیونکہ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ وہ نہایت آرام اور سکھ کی زندگی بسر کر رہا ہے۔غرض محمد رسول اللہ صلی علی ایم کے کمال اخلاق کا یہ ثبوت ہے کہ جب زید نے وفاداری کا مظاہرہ کیا تو آپ صلی اللہ ہم نے غیر معمولی احسان مندی کا ثبوت دیا۔849 اس واقعہ کا ذکر سیرت خاتم النبیین میں یوں ملتا ہے۔جب ان کے والد اور چچا انہیں لینے آئے تو آنحضرت صلی اللہ ہم نے زید سے فرمایا تمہیں میری طرف سے بخوشی اجازت ہے۔زیڈ نے جواب دیا کہ میں آپ کو چھوڑ کر ہر گز نہیں جاؤں گا۔آپ میرے لیے میرے چا اور باپ سے بڑھ کر ہیں۔یہاں یہ ایک نئی بات لکھی ہے کہ اس پر زید کا باپ غصے میں بولا کہ ہیں تو غلامی کو آزادی پر ترجیح دیتا ہے ؟ ہم تجھے آزاد کرانے آئے ہیں، لینے آئے ہیں اور تم کہتے ہو میں غلام بن کر رہوں گا۔زیڈ نے کہا۔ہاں کیونکہ میں نے ان میں ایسی خوبیاں دیکھی ہیں کہ اب میں کسی کو ان پر ترجیح نہیں دے سکتا۔آنحضرت صلی ا ہم نے جب زید کا یہ جواب سنا تو فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور زید کو خانہ کعبہ لے جاکر بلند آواز سے کہا کہ لوگو ! گواہ رہو کہ آج سے میں زید کو آزاد کرتا ہوں اور اسے اپنا بیٹا بنا تا ہوں۔گو کہ یہ پہلے ہی آزاد تھے لیکن وہاں لوگوں کے سامنے بھی اعلان کیا۔یہ میر اوارث ہو گا۔آپ نے فرمایا کہ یہ میر اوارث ہو گا اور میں اس کا وارث ہوں گا۔اس دن سے جب آنحضرت صلی علیم نے یہ اعلان کیا تو زید بجائے زید بن حارثہ کے زید بن محمد کہلانے لگے لیکن ہجرت کے بعد خد اتعالیٰ کی طرف سے یہ حکم اترا کہ منہ بولا بیٹا بنانا جائز نہیں ہے تو زید کو پھر زید بن حارثہ کہا جانے لگا مگر آنحضرت صلی علیکم کا سلوک اور پیار اس وفادار خادم کے ساتھ وہی رہا جو پہلے دن تھا بلکہ دن بدن ترقی کرتا گیا اور زید کی وفات کے بعد زید کے لڑکے اسامہ بن زید سے بھی جو آنحضرت صلی علیہ کم کی خادمہ ام ایمن کے بطن سے تھے آپ کا وہی سلوک اور وہی پیار تھا۔زید کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ تمام صحابہ میں سے صرف ان ہی کا نام قرآن شریف میں صراحت کے ساتھ مذکور ہوا ہے۔850 ایک اور روایت میں یہ بھی ہے۔حضرت زید کے بڑے بھائی حضرت جبلہ “ یہ روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی یکم کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست کی کہ میرے بھائی کو میرے ساتھ بھیج دیں۔یہ شاید بعد میں دوبارہ پھر واقعہ ہوا ہو۔آپ صلی علیم نے فرمایا یہ تمہارا بھائی تمہارے سامنے ہے۔اگر یہ جانا چاہے تو میں اسے نہیں روکوں گا۔اس پر حضرت زید نے کہا کہ یارسول اللہ صلی علیکم میں آپ پر کبھی بھی کسی کو ترجیح نہیں دوں گا۔حضرت جبلہ کہتے ہیں کہ پھر میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے بہتر تھی۔851