اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 359 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 359

تاب بدر جلد 4 359 ہیں اور عقل اور دماغ رکھتے ہیں وہ غلام ہو کر کیوں رہیں۔عرب کے لحاظ سے ہی نہیں ساری دنیا کے لحاظ سے یہ ایک عجیب بات تھی مگر اس عجیب بات کا آپ نے اعلان فرمایا اور اس طرح آپ نے مال ملنے پر غیر معمولی سخا کا ثبوت دیا۔میں آزاد نہیں ہونا چاہتا رسول کریم صلی علیہم نے جب یہ اعلان فرمایا کہ میں تمام غلاموں کو آزاد کرتا ہوں تو اس پر اور تو سب غلام چلے گئے صرف زید بن حارثہ جو بعد میں آپ کے بیٹے مشہور ہو گئے تھے وہ آپ کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ آپ نے تو مجھے آزاد کر دیا مگر میں آزاد نہیں ہونا چاہتا۔میں آپ کے پاس ہی رہوں گا۔آپ نے اصرار کیا کہ وطن جاؤ اور اپنے رشتہ داروں سے ملو، اب تم آزاد ہو۔مگر حضرت زید نے عرض کیا کہ جو محبت اور اخلاص میں نے آپ صلی کیلیے کم میں دیکھا ہے اس کی وجہ سے آپ مجھے سب سے زیادہ پیارے ہیں۔زید ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتے تھے لیکن چھوٹی عمر میں ان کو ڈا کو اٹھا لائے تھے اور انہوں نے آپ کو آگے بیچ دیا تھا۔اس طرح یہ پھرتے پھر اتے حضرت خدیجہ کے پاس آگئے۔آپ کے باپ اور چا کو بہت فکر ہوا، آپ کی تلاش میں نکلے۔انہیں پتا لگا کہ زید روما میں ہیں۔وہاں گئے تو پتا لگا کہ آپ عرب میں ہیں۔عرب آئے تو پتا لگا کہ آپ مکہ میں ہیں۔مکہ میں آئے تو پتا لگا کہ آپ رسول کریم صلی علیکم کے پاس ہیں۔وہ آپ کے پاس آئے اور کہا ہم آپ کے پاس آپ کی شرافت اور سخاوت سن کر آئے ہیں۔آپ کے پاس ہمارا بیٹا غلام ہے۔اس کی جو قیمت آپ مانگیں ہم دینے کے لیے تیار ہیں۔آپ اسے آزاد کر دیں۔اس کی ماں بڑھیا ہے اور وہ جدائی کے صدمے کی وجہ سے رو رو کر اندھی ہو گئی ہے۔آپ کا بڑا احسان ہو گا اگر آپ منہ مانگی قیمت لے کر اسے آزاد کر دیں۔رسول کریم صلی ا ہم نے فرمایا کہ آپ کا بیٹا میر ا غلام نہیں ہے۔میں اُسے آزاد کر چکا ہوں۔پھر آپ نے زید کو بلایا اور فرمایا تمہارے ابا اور چا تمہیں لینے آئے ہیں۔تمہاری ماں بڑھیا ہے اور رو رو کر اندھی ہو گئی ہے۔میں تمہیں آزاد کر چکا ہوں۔تم میرے غلام نہیں ہو۔تم ان کے ساتھ جاسکتے ہو۔حضرت زید نے جواب دیا آپ نے تو مجھے آزاد کر دیا ہے مگر میں تو آزاد ہونا نہیں چاہتا۔میں تو اپنے آپ کو آپ کا غلام ہی سمجھتا ہوں۔آپ نے پھر فرمایا کہ تمہاری والدہ کو بہت تکلیف ہے اور دیکھو تمہارے ابا اور چاکتنی دور سے اور کتنی تکلیف اٹھا کر تمہیں لینے آئے ہیں تم ان کے ساتھ چلے جاؤ۔زید کے والد اور چچانے بھی بہت سمجھایا مگر حضرت زید نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا اور فرمایا کہ آپ بے شک میرے باپ اور چاہیں اور آپ کو مجھ سے محبت ہے مگر جو رشتہ میرا ان سے قائم ہو چکا ہے وہ اب ٹوٹ نہیں سکتا۔حضرت زید نے کہا، مجھے یہ سن کر کہ میری والدہ سخت تکلیف میں ہیں بہت دکھ ہوا ہے، مگر ان سے جدا ہو کر میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔یعنی آنحضرت صلی الی یکم سے جد اہو کے میں زندہ نہیں رہ سکوں گا۔ماں کا دکھ بھی ایک طرف لیکن یہ دکھ مجھے اس سے بڑھ کر ہو گا۔