اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 353 of 672

اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 353

اصحاب بدر جلد 4 353 پھر وہاں طبقات الکبریٰ کی یہ روایت ہے کہ جب ابنِ حجر مُموز نے آکر حضرت علیؓ سے اجازت چاہی تو حضرت علی نے اس سے دوری چاہی۔اس پر اس نے کہا کیا ز بیر مصیبت والوں میں سے نہ تھے۔حضرت علی نے کہا کہ تیرے منہ میں خاک میں تو یہ امید کرتا ہوں کہ طلحہ اور زبیر ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے حق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٌ اِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ متقبلين (الحجر: 19) اور ہم ان کے دلوں کی کدورت دور کر دیں گے کہ وہ تختوں پر آمنے سامنے بھائی بھائی ہو کر بیٹھیں گے۔832 شادی اور اولاد حضرت زبیر نے مختلف اوقات میں متعدد شادیاں کیں اور کثرت کے ساتھ اولاد پیدا ہوئی۔ان کی تفصیل حسب ذیل ہے۔حضرت اسماء بنت ابو بکر : ان کے بطن سے عبد اللہ ، عروہ، منذد، عاصم، خدیجۃ الکبری، ام الحسن، عائشہ پیدا ہوئیں۔حضرت ام خالد : ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے وہ خالد ، عمرو، حبیبہ، سودہ، ہند ہیں۔حضرت رباب بنت انیف : ان کے بطن سے یہ بچے پیدا ہوئے۔مصعب، حمزہ، رمله۔حضرت زینب ام جعفر بنت مرید : ان کے بطن سے جو بچے پیدا ہوئے وہ عبیدہ اور جعفر ہیں۔حضرت ام کلثوم بنت عقبہ: ان کے بطن سے زینب پیدا ہوئیں۔حضرت حلال بنت قیس : ان کے بطن سے خدیجۃ الصغری پیدا ہوئیں۔833 حضرت عاتکہ بنت زید - 4 834 116) حضرت زیاد بن عمرو اپنے ایک اور بھائی کے ساتھ جنگ بدر میں شریک حضرت زیاد کو ابن بشر بھی کہا جاتا تھا۔آپ انصار کے حلیف تھے۔حضرت زیاد غزوہ بدر میں شریک تھے۔آپؐ کے بھائی حضرت ضمرہ بھی غزوہ بدر میں شریک تھے۔آپ کا تعلق قبیلہ بنو سَاعِدَہ بن کعب سے تھا۔ایک دوسرے قول کے مطابق آپ بنو سَاعِدَہ بن كعب بن الخزرج کے آزاد کردہ غلام تھے۔835