اصحابِ بدرؓ (جلد چہارم) — Page 351
اصحاب بدر جلد 4 351 رض علیحدگی کی یہ وجہ بنی تھی۔اس کی تفصیل جو ہے وہ حضرت طلحہ بن عبید اللہ کے ذکر میں بیان ہو چکی ہے جس سے واضح ہو جاتا ہے کہ مفسدین اور منافقین کی بھڑ کائی ہوئی آگ تھی جس میں اکثر صحابہ غلط فہمی کی وجہ سے شامل ہو گئے تھے۔بہر حال جو بھی تھا وہ غلط ہوا۔حرب بن ابو الاسود کہتے ہیں کہ میں حضرت علی اور حضرت زبیر سے ملا ہوں۔جب حضرت زبیر اپنی سواری پر سوار ہو کر صفوں کو چیرتے ہوئے واپس لوٹے تو ان کے بیٹے عبد اللہ ان کے سامنے آئے اور کہنے لگے کہ آپ کو کیا ہوا؟ حضرت زبیر نے ان سے کہا حضرت علی نے مجھے ایک حدیث یاد کرا دی جس کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانِ مبارک سے سنا ہے۔آپ نے فرمایا تھا تو اس یعنی حضرت علی سے جنگ کرے گا اور اس جنگ میں تو ظلم کرنے والا ہو گا۔اس لیے میں ان سے جنگ نہیں کروں گا۔ان کے بیٹے نے کہا کہ آپ تو اس لیے آئے ہیں کہ لوگوں کے درمیان صلح کرائیں اور اللہ آپ کے ہاتھ سے اس معاملے میں صلح کروائے گا۔حضرت زبیر نے کہا میں تو قسم کھا چکا ہوں۔حضرت عبد اللہ بن زبیر نے کہا آپ اس قسم کا کفارہ دے دیں اور اپنے غلام جز چش کو آزاد کر دیں اور ادھر ہی موجو در ہیں یہاں تک کہ اللہ ان لوگوں میں صلح کروا دے۔راوی کہتے ہیں کہ حضرت زبیر نے اپنے غلام جر جس کو آزاد کیا اور وہیں ٹھہرے رہے۔لیکن لوگوں میں اختلاف مزید بڑھ گئے تو آپ اپنے گھوڑے پر سوار ہو کر چلے گئے۔جب حضرت زبیر مدینے کی طرف واپسی کا ارادہ کر کے نکلے اور سفوان نامی مقام پر پہنچے جو بصرہ کے قریب ایک مقام ہے تو بکر نامی ایک شخص جو بنو مجاشع سے تھا حضرت زبیر کو ملا۔اس نے کہا کہ اے حواري رسول اللہ ! آپ کہاں جارہے ہیں ؟ آپ میری ذمہ داری ہیں۔آپ تک کوئی شخص نہیں پہنچ سکتا۔ہ شخص حضرت زبیر کے ساتھ چل پڑا اور ایک آدمی احنف بن قیس سے ملا۔اس نے کہا کہ یہ زبیر ہیں جو مجھے سفوان میں ملے تھے۔احنف نے کہا کہ مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں گتھم گتھا ہیں اور تلواروں سے ایک دوسرے کی پیشانیاں کاٹ رہے ہیں اور یہ اپنے بیٹے اور گھر والوں سے ملنے جاتے ہیں۔جب عمیر بن جُرْمُوز اور فَضَالَہ بن حابس اور نفیع نے یہ بات سنی تو انہوں نے سوار ہو کر حضرت زبیر کا پیچھا کیا اور ان کو ایک قافلے کے ساتھ پالیا۔عمیر بن جر موز گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے پیچھے سے آیا اور حضرت زبیر پر نیزے سے حملہ کیا اور ہلکا ساز خم دیا۔حضرت زبیر نے بھی جو اس وقت ذُو الخمار نامی گھوڑے پر سوار تھے اس پر حملہ کیا۔جب ابن جُرموز نے دیکھا کہ وہ قتل ہونے والا ہے تو اس نے اپنے دونوں ساتھیوں کو آواز دی اور انہوں نے مل کر حملہ کیا یہاں تک کہ حضرت زبیر کو شہید کر دیا۔وہ ایک روایت میں آتا ہے کہ جب حضرت زبیر اپنے قاتل کے سامنے آئے اور اس پر غالب بھی آگئے لیکن اس دشمن نے کہا میں تمہیں اللہ کا واسطہ دیتا ہوں۔یہ سن کر حضرت زبیر نے اپنا ہاتھ روک لیا۔اس شخص نے یہ عمل کئی مرتبہ کیا۔پھر جب حضرت زبیر کے خلاف اس نے بغاوت کی اور ان کو زخمی کر دیا تو حضرت زبیر نے کہا اللہ تجھے غارت کرے تم مجھے اللہ کا واسطہ دیتے رہے اور خود اس کو بھول